بدھ 23 شوال 1440 - 26 جون 2019
اردو

ایک خاتون کا طہر درمیان میں منقطع ہو جاتا ہے، اور گیارہویں دن زرد رنگ کا مادہ خارج ہوتا ہے۔

95421

تاریخ اشاعت : 04-05-2015

مشاہدات : 2306

سوال

سوال: ایک عورت کو حیض کا خون پہلے چار دن آتا ہے، پھر پانچویں دن منقطع ہو جاتا ہے، اور چھٹے دن دوبارہ تھوڑا سا خون نکلتا ہے۔۔۔ جبکہ 7، 8، اور 9 ویں دن حیض کے خون سے مختلف مادہ صرف ظہر کے وقت خارج ہوتا ہے، اور پھر گیارہویں دن زرد رنگ کا مادہ خارج ہوتا ہے۔۔۔ یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ اس خاتون کو بالکل سفید مادہ نظر نہیں آتا۔۔ تو کیا گیارہویں دن کا روزہ دوبارہ رکھے؟.

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

عورت کو گیارہ دن حیض آسکتا ہے، اور زیادہ سے زیادہ 15 دن تک حیض جمہور علمائے کرام کے مطابق ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ  زیادہ سے زیادہ حیض کی کوئی حد نہیں ہے، تاہم اگر پورا مہینہ ہی  خون جاری رہے، یا مہینے کے اکثر دن  خون آئے تو اسے مستحاضہ کہا جائے گا۔

دوم:

حیض سے پاکی  دو علامتوں میں سے ایک  حاصل ہونے پر مل جاتی ہے:

1) سفید مادہ خارج ہو، یہ سفید مادہ خواتین کے ہاں معروف ہوتا ہے۔

2) مخصوص جگہ بالکل خشک ہو جائے، یعنی اگر وہاں پر روئی وغیرہ رکھی جائے تو بالکل صاف  نکلے، اس پر کسی خون یا زردی کا رنگ نہ ہو۔

سوم:

حیض کے خون سے متصل  زردی  یا مٹیالہ  مادے کا حکم بھی حیض والا ہی ہے، تاہم اگر  یقینی طور پر طہر آنے کے بعد زردی یا مٹیالہ مادہ خارج ہو تو اس کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی، کیونکہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : "ہم طہر کے بعد زرد یا مٹیالے رنگ کو کچھ نہیں سمجھتے تھے" ابو داود: (307) اسے البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابو داود میں  صحیح کہا ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل  کے مطابق ہم یہ کہیں گے کہ:

1- پانچویں دن خون منقطع ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ مکمل طور پر مخصوص جگہ خشک ہو جاتی ہے تو آپ کو غسل کرکے نماز اور روزے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ آپ  پاک ہو چکی ہیں، اور اگر مکمل طور پر مخصوص جگہ خشک نہیں ہوئی تو پھر ابھی آپکا حیض باقی ہے۔

2- اگر ساتویں دن سے لیکر گیارہویں دن تک مکمل طور پر  مخصوص جگہ خشک نہیں ہوتی  ، تو یہ مکمل دورانیہ حیض شمار ہوگا، چنانچہ گیارہویں دن نمودار ہونے والی زردی بھی حیض میں ہی شمار ہوگی، جیسے کہ پہلے بھی گزر چکا ہے، کیونکہ یہ زردی طہر کے بعد نہیں آئی بلکہ حیض سے متصل  ہی آئی ہے، اس لئے اسکا حکم بھی حیض والا ہی ہوگا۔

اور اگر  ان دنوں کے درمیان میں کسی بھی وقت مخصوص جگہ مکمل طور  خشک ہو جائے ، چاہے چند گھنٹوں کیلئے ہی کیوں نہ ہو، تو اس خشکی کو طہر شمار کیا جائے گا، چنانچہ عورت غسل کر کے  نمازیں ادا کرے گی۔

3- گیارہویں دن کے روزے کا حکم مندرجہ بالا تفصیل پر منحصر ہے، چنانچہ اگر گیارہویں دن کی  زردی  طہر کی علامات [سفید مادہ/ مکمل خشکی]کے بعد نمو دار ہو ، تو یہ حیض نہیں ہے، اس لئے گیارہویں دن کا روزہ صحیح ہوگا، اور اگر  زردی نمو دار ہونے سے پہلے طہر کی علامات واضح نہیں ہوئیں تو پھر یہ زردی بھی حیض ہی شمار ہوگی، لہذا اس دن کا روزہ صحیح شمار نہیں ہوگا، اور اس دن کی قضا دینا لازمی ہوگا۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں