اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

اس برس ہم عاشوراء کیسےمعلوم کریں ؟

03-12-2011

سوال 10263

اس برس ہم عاشوراءکاروزہ کیسےرکھیں؟ ہمیں ابھی تک یہ علم نہیں کہ مہینہ کب شروع ہوااورکیا ذوالحجہ انتیس کاتھایاتیس یوم کاتوہم عاشوارء کی کیسےتحدیدکریں اور روزہ رکھیں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگرہمیں یہ نہ پتہ چلےکہ ذوالحجہ تام ( یعنی۔30۔دن ) کاتھایاکہ ناقص ( یعنی ۔29۔دن) کاتھااورنہ ہی ہمیں اس کےمتعلق کوئی بتائےکہ محرم کب شروع ہواتواصل کےمطابق چلیں گےیعنی مہینےکوتیس یوم کامکمل کرینگے۔ ذوالحجہ کےتیس یوم کا اعتبار کیاجائےگااوراسی بناپرہم عاشوراءکوشمارکرینگے ۔

اوراگرمسلمان یہ احتیاط چاہتا ہےکہ عاشوراءکا روزہ قطعی طورپرصحیح ہوتووہ دودن کا مسلسل روزہ رکھے ۔اسےچاہئےکہ وہ شمارکرے کہ ، اگرذوالحجہ انتیس یوم کاہو توعاشوراءکب ہوگااوراگرذوالحجہ تیس کاہوتو پھرعاشوراء کب ہوگاتوان دونوں دنوں میں وہ روزے رکھ لےتواس طرح وہ عاشوراءکویقینی اورقطعی طور پر پالےگا ۔

تواس حالت میں یاتواس نےنواوردس محرم کاروزہ رکھایاپھردس اورگیارہ کاتودونوں ہی ٹھیک ہیں اوراگروہ نومحرم کاروزہ رکھنےمیں بھی احتیاط چاہتاہے توہم اسےیہ کہیں گےکہ دودن وہ جن کاذکراوپرکیاگیاہےاورایک دن اس سے پہلےروزہ رکھ لےاس طرح اس نےنو، دس اورگیارہ محرم کاروزہ یاپھرآٹھ ، نواوردس کاروزہ رکھا ۔ان دونوں حالتوں میں تاکیدی طورپرنواوردس محرم کاروزہ رکھاجائےگا ۔

اوراگرکوئي یہ کہےکہ میں اپنےخاص مسائل ، کام کاج اورذاتی ( مصروفیات ) کی بناپرصرف ایک روزہ ہی رکھ سکتاہوں ،توکونسادن افضل جس میں روزہ رکھوں توہم اسے یہ کہیں گے :

ذوالحجہ کوتیس یوم مکمل کریں پھراس کےبعددس دن شمارکرکےروزہ رکھ لو۔

یہ مضمون میں نےاپنےشیخ اوراستادعلامہ عبدالعزیزبن بازرحمہ اللہ تعالی سےجب اس کےمتعلق پوچھاگیاتوسنا ۔

اوراگرکسی ثقہ مسلمان کی طرف سےہمیں محرم کاچانددیکھ کرتعیین کرنےکی خبرملےتوہم اس پرعمل کریں گےاورمحرم میں روزہ رکھناعمومی طورپرسنت ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

( رمضان کےبعدسب سےافضل روزے اللہ تعالی کےمہینہ محرم کےروزے ہیں )

صحیح مسلم حدیث نمبر ۔(1163)

واللہ اعلم .

نفلی روزے
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔