اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

گاڑى كے ايكسيڈنٹ كى بنا پر ہوش و حواس كھو بيٹھا كيا وہ

05-09-2006

سوال 22204

ايك ايسا شخص ہے جو گاڑى كے ايكسيڈنٹ كى بنا پر موت كى كشمكش ميں ہے، اور ايك لمبى مدت خطرے اور بے علمى كى حالت ميں رہا اس مدت ميں رمضان بھى شامل ہے، كچھ مدت كے بعد اللہ كريم نے اسے شفايابى سے نوازا اور وہ روبصحت ہو گيا، چنانچہ اس پر نماز اور روزں كى قضاء كس طرح ہو گى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگر تو واقعتا ايسا ہى ہے جيسا آپ نے بيان كيا ہے كہ ايكسيڈنٹ كى بنا پر ايك طويل مدت اس شخص كے ہوش و حواس قائم نہ رہے ـ اس ميں رمضان المبارك كا مہينہ بھى شامل ہے ـ علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق اس كے ذمہ اس كے ہوش و حواس غائب ہونے كى مدت كى كسى قسم كى كوئى قضاء نہيں نہ تو روزے كى اور نہ ہى نماز كى، كيونكہ وہ اس مدت كے دوران مكلف ہى نہ تھا.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پراپنى رحمتيں نازل فرمائے.

روزوں کی قضا
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔