اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

خريدارى ميں وكيل بنانا اور پيشكش سے وكيل كا مستفيد ہونا

16-07-2010

سوال 39508

كيا ميں كسى دوسرے ملك سے گاڑى خريدنے كے ليے كسى شخص كو اجرت دے كر وكيل بنا سكتا ہوں، يہ علم ميں ركھيں كہ جس ملك سے گاڑى خريدى جائيگى اگر وہ گاڑى اسى ملك ميں استعمال كى جائے تو خريدار پر ٹيكس عائد كيا جاتا ہے، ليكن اگر وہ اس ملك سے اپنے ملك منتقل كرے تو اسے ٹيكس ادا كرنے كے بعد واپس لينے كا حق حاصل ہے، آپ كے علم ميں لانا چاہتا ہوں كہ وكيل اپنے موكل كى اجازت كے بغير ٹيكس كى رقم خود لينا چاہتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اس معاملہ كى دو صورتيں ہيں:

پہلى صورت:

وہ شخص آپ كے ليے گاڑى خريدے اور اس كام پر اپنى اجرت حاصل كرے تو وہ شخص آپ كى جانب سے گاڑى خريدنے كا وكيل اور نائب ہے، تو اس وقت متعين كردہ اجرت كے علاوہ كچھ حلال نہيں، لھذا جو رقم گاڑى كى قيمت ميں كمى يا پھر ٹيكس كى واپسى كى شكل ميں ملے، يا پھر اس معاملہ كى بنا پر جو كچھ بھى وكيل كو تحفہ اور ہديہ ميں ملے وہ سب كچھ آپ ( يعنى موكل ) كو واپس كيا جائے گا، ليكن اگر آپ اس ميں سے كچھ اپنى رضامندى سے ادا كرديں، كيونكہ معاہدے كے حقوق كا تعلق تو صرف موكل كے ساتھ ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( مھنا كى روايت كے مطابق امام احمد رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے كہ: جب كوئى شخص كسى دوسرے كو كپڑا فروخت كرنے كے ليے دے تو اس نے فروخت كر ديا، اور خريدار نے اسے ايك رومال ہبہ كيا تو رومال كپڑے والے شخص كا ہو گا، يہ اس ليے كہا كہ رومال كے ہبہ كا سبب فروخت ہے، تو اس طرح رومال قيمت ميں زيادہ ہے، اور معاہدہ كى مجلس ميں زيادہ اس كے ساتھ ملحق ہو گا ) انتھى

اختصار كے ساتھ ذكر كيا گيا ديكھيں: المغنى لابن قدامۃ المقدسى ( 5 / 82 ).

دوسرى صورت:

يہ كہ آدمى گاڑى خريدے اور پھر وہ گاڑى آپ كو فروخت كردے، تو اس كا حق ہے كہ گاڑى كى قيمت بڑھا لے، اور اس ميں ٹيكس كا بھى اضافہ كرے چاہے ٹيكس واپس ملے يا نہ ملے، ليكن آپ كے ليے اس سے اس وقت تك گاڑى خريدنى جائز نہيں جب تك وہ گاڑى كا حقيقى مالك نہيں بنتا؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكيم بن حزام رضى اللہ تعالى عنہ كو فرمايا:

" جب تم كوئى چيز خريدو تو اسے اسے اپنے قبضہ ميں لينے سے قبل فروخت نہ كرو"

مسند احمد حديث نمبر ( 15399 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 4613 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 342 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور دار قطنى اور ابو داود ميں زيد بن ثابت رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خريدنے والى جگہ پر ہى فروخت كرنے سے منع كيا حتى كہ تاجر وہ سامان اپنے گھروں ميں نے لے جائيں.

ابو داود حديث نمبر ( 3499 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اس حديث كو صحيح ابو داود ميں حسن كہا ہے.

اور صحيحين ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے غلہ خريدا تو وہ اسے پورا كرنے سے قبل فروخت نہ كرے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2132 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1525)

اور مسلم نے يہ الفاظ زيادہ كيے ہيں:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہتے ہيں كہ: ميرے خيال ميں ہر چيز اسى طرح ہے ) يعنى غلہ اور دوسرى اشياء ميں كوئى فرق نہيں.

واللہ اعلم .

اجرت
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔