ہفتہ 20 صفر 1441 - 19 اکتوبر 2019
اردو

عمرے کے دوران طواف کے چکروں میں تسلسل واجب ہے۔

سوال

عمرے کے دوران طواف کرتے ہوئے دوسرا چکر پورا ہونے پر عصر کی نماز کی اقامت ہو گئی، نماز عصر ادا کرنے کے بعد رش ہونے کی وجہ سے میں اپنا طواف جاری نہیں رکھ  سکا تو میں اپنے گھر والوں کے ساتھ چلا گیا، اگلے روز میں نے گزشتہ دن کے بقیہ پانچ چکروں  کی بجائے طواف کے پورے سات چکر کاٹے ۔

اس طرح میں نے نو چکر کاٹ لیے سات نہیں تو ایسی صورت میں مجھ پر کیا لازم آتا ہے؟ مزید یہ بھی بتلائیں کہ کیا طواف کے چکروں میں تسلسل قائم رکھنا ضروری ہے؟ یا ان میں تسلسل  رکھنا ضروری نہیں ہے؟

اور کیا ایسی کوئی کتاب ہے جو حج اور عمرے کے احکامات پر مشتمل ہو؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اہل علم کے راجح موقف کے مطابق طواف کے چکروں میں تسلسل  طواف کے صحیح ہونے کیلیے شرط ہے؛ تاہم اگر معمولی وقفہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"طواف کے صحیح ہونے کی شرائط میں  یہ بھی شامل ہے کہ طواف کے چکروں میں تسلسل قائم رہے" ختم شد
"اللقاء الشهري" (3 /205)

دوم:

آپ طواف کر رہے ہوں اور اسی دوران نماز کی اقامت ہو جائے تو آپ نماز پڑھیں گے اور نماز کیلیے جہاں بھی رکے تھے وہیں سے طواف مکمل کریں گے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جب آپ حج یا عمرے یا نفلی طواف کر رہے ہوں اور نماز کی اقامت ہو جائے تو پھر طواف چھوڑ کر نماز ادا کریں، پھر بعد میں اپنا طواف مکمل کر لیں، شروع سے طواف کا آغاز کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ وہیں سے طواف دوبارہ شروع کریں گے جہاں آپ نماز سے پہلے پہنچے تھے، نیز وہی چکر دوبارہ شروع سے بھی کاٹنے کی ضرورت نہیں   ہے؛ کیونکہ نماز سے پہلے جتنا  چکر کا آپ نے کاٹا ہے اس کی بنیاد بالکل صحیح تھی اور شرعی اجازت کی بنا پر ہی نماز ادا کی تو اس لیے نماز سے پہلے کا چکر باطل نہیں ہو سکتا" ختم شد
" فتاوى نور على الدرب " (12/2)، ماخوذ از: مکتبہ شاملہ

اسی طرح شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کہتے ہیں:
"طواف کے صحیح ہونے کیلیے طواف کے چکروں میں تسلسل شرط ہے، اسی طرح ایک چکر شروع کر کے اسے مکمل کرنے تک جاری رہنا بھی شرط ہے، تاہم اگر کوئی عذر پیش آ جائے کہ جس کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ جائے تو اور بات ہے، جیسے کہ طواف کے دوران نماز کی اقامت ہو گئی تو ایسے میں طواف چھوڑ کر نماز ادا کرے گا، اور سلام پھیرنے کے بعد طواف کا بقیہ حصہ مکمل کرے گا، یعنی نماز سے پہلے والے حصے کو شمار کرتے ہوئے بقیہ مکمل کرے گا، اسی طرح اگر طواف کے دوران تھکاوٹ محسوس کی تو تھوڑی دیر کیلیے آرام  کیا اور پھر دوبارہ طواف مکمل کر لیا تو ان شاء اللہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ یہ آرام ضرورت کی بنا پر کیا گیا ہے۔ لیکن اگر طواف کے تسلسل کو بلا عذر ختم کرے ، مثلاً: طواف کے چکروں میں لمبا فاصلہ کر لے، تو پھر وہ شروع سے دوبارہ طواف کرے  گا؛ کیونکہ اس نے طواف کے چکروں میں تسلسل کو بلا عذر ختم کیا" ختم شد
" المنتقى من فتاوى الفوزان" (67 /1) .

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (85368) اور اسی طرح : (143261) کا مطالعہ کریں۔

لہذا سابقہ تفصیلات کی بنا پر:

آپ نے آئندہ روز دوبارہ مکمل طواف  یعنی سات چکر کاٹے  تو آپ کے لیے یہی درست اور واجب عمل تھا؛ کیونکہ آپ نے پہلا طواف مکمل ہی نہیں کیا اور پھر دونوں طوافوں میں لمبا فاصلہ بھی کر دیا تو ایسی صورت میں آپ پہلا طواف مکمل ہی نہیں کر سکتے تھے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تھا کہ:

"ایک آدمی نے طواف کے صرف دو چکر کاٹے اور شدید بھیڑ کے باعث طواف چھوڑ کر ایک،  دو گھنٹے  کیلیے آرام کرنے لگا، وہ پھر دوبارہ طواف کیلیے آیا تو کیا وہ نئے سرے سے طواف شروع کرے گا یا پہلے والے طواف کو ہی پورا کرے گا؟"
تو انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا:
"اگر فاصلہ بہت زیادہ تھا مثلاً: ایک دو گھنٹے کا تو اس پر واجب ہے کہ دوبارہ سے طواف شروع کرے، اور اگر معمولی وقفہ تھا تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ طواف اور سعی کیلیے تسلسل  قائم رکھنا ضروری ہے، یعنی پے در پے چکر کاٹے جائیں، اگر چکروں کے مابین لمبا فاصلہ آ جائے تو پہلے والے چکر کالعدم ہو جائیں گے، اور اس پر دوبارہ سے طواف کرنا لازمی ہو جائے گا، تاہم اگر فاصلہ معمولی تھا، مثلاً: ایک دو منٹ کیلیے سستایا اور پھر طواف مکمل کر لیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے" ختم شد
"مجموع فتاوى و رسائل عثیمین " (22/ 293)

سوم:

حج اور عمرے کے احکامات کیلیے مفید کتابوں میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:

  1. "التحقيق والإيضاح لكثير من مسائل الحج والعمرة والزيارة " از ابن باز رحمہ الله
  2. "مناسك الحج والعمرة " از شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ۔
  3. "المنهاج في يوميات الحاج " از شیخ عبد الله بن جبرين رحمہ اللہ۔
  4. "أوضح المسالك إلى أحكام المناسك " از شیخ عبد العزيز بن محمد السلمان رحمہ اللہ۔
  5. "تبصير الناسك بأحكام المناسك" از شیخ عبد المحسن العباد  حفظہ اللہ

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (109337) کا مطالعہ بھی کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں