اتوار 15 شوال 1441 - 7 جون 2020
اردو

کوئی خیراتی ادارہ فطرانے کی رقم وصول کرنے سے پہلے ہی فطرانہ تقسیم کر سکتا ہے؟

سوال

کچھ خیراتی اداروں کے پاس تقسیم کیے جانے والے فطرانے کے متعلق سالانہ اعداد و شمار موجود ہیں، جنہیں حاصل کرنے کے لئے غریب لوگوں کی فہرستیں، مستحق خاندانوں کی تعداد ، اور ہر خاندان کی مالی حیثیت سمیت دیگر امور کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اس خیراتی ادارے کے پاس سالانہ فطرانے کی مقدار کا تخمینہ بھی ہے۔ اب جس وقت یہ ادارہ اناج خریدتا ہے تو بڑی مقدار میں مناسب قیمت پر خرید لیتا ہے، تو ایسے میں ناممکن ہو جاتا ہے کہ اناج کی خریداری کے لئے عید سے ایک یا دو دن پہلے تک انتظار کرے؛ اس لیے ان کی جانب سے سابقہ اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر اناج کا تخمینہ لگا لیا جاتا ہے اور خریداری بھی کر لی جاتی ہے، جس کی ادائیگی ابتدائی طور پر ادارہ اپنی طرف سے کر دیتا ہے، اور پھر ایک طرف تو اس کی تقسیم شروع کر دی جاتی ہے، اور دوسری طرف لوگوں سے فطرانے کی قیمت کی وصولی جاری رہتی ہے۔ پھر اگر خرید کردہ اناج میں کمی بیشی ہو تو رمضان کے آخری دو دنوں میں اس کو پورا کر لیا جاتا ہے، اس طرح سے فطرانہ مستحق لوگوں تک بڑی آسانی سے پہنچ جاتا ہے! تو آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ مطلب کہ اس ادارے کا فطرانہ ادا کرنے والے کی طرف سے وصولی اور اس کی نیت سے قبل ہی فطرانہ غریبوں تک پہنچانا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

فطرانہ بھی دیگر عبادات کی طرح نیت کے بغیر صحیح نہیں ؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (بیشک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی) بخاری: (1)

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (476/2) میں کہتے ہیں:
"نیت کے بغیر زکاۃ ادا کرنا جائز ہی نہیں ہے، الا کہ حکومت کی جانب سے جبری وصولی کی جائے۔ اکثر فقہائے کرام کا موقف یہ ہے کہ نیت زکاۃ کی ادائیگی کے لئے شرط ہے، تاہم امام اوزاعی سے نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے زکاۃ کی ادائیگی کے لئے نیت کو شرط قرار نہیں دیا۔۔۔
البتہ ادائیگی سے معمولی وقت قبل تک نیت کو مقدم کر سکتے ہیں جیسے کہ دیگر عبادات میں ہوتا ہے؛ ویسے بھی زکاۃ کی ادائیگی میں نیابت ممکن ہے تو اس لیے نیابت کی صورت میں زکاۃ ادا کرتے وقت نیت لازمی قرار دینے سے مال تو ختم ہو جائے گا لیکن زکاۃ ادا نہ ہوگی۔

اگر زکاۃ ادا کرنے والے نے نیت کے ساتھ اپنے نمائندے کو زکاۃ سپرد کی لیکن نمائندے نے زکاۃ ادا کرنے کی نیت نہ کی تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ زکاۃ ادا کرنے والے نے لمبے عرصے قبل نیت نہ کی ہو۔

اور اگر اس نے کافی عرصہ قبل نیت کی تھی تو پھر جائز نہیں ہو گا، الا کہ زکاۃ ادا کرنے والے نے اپنے نمائندے کو زکاۃ دیتے ہوئے نیت کی اور پھر اس نمائندے نے مستحق آدمی کو زکاۃ دیتے ہوئے بھی نیت کی۔

اگر نمائندہ تو نیت کرے لیکن اس کا موکل نیت نہ کرے تو جائز نہیں ہو گا؛ کیونکہ زکاۃ کا فریضہ تو موکل سے تعلق رکھتا ہے اور زکاۃ کی ادائیگی بھی موکل کی طرف سے ہی ہو گی۔" ختم شد
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کیونکہ زکاۃ اگرچہ مالی معاملہ ہے، لیکن یہ اللہ تعالی کا حق ہے۔۔۔ اس لیے اس میں نیت واجب ہے، اسی لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی آدمی کسی کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے زکاۃ ادا کر دے " ختم شد
" مجموع الفتاوى " (7/315)

اسی طرح مرداوی رحمہ اللہ اپنی کتاب: الإنصاف (3/ 198) میں کہتے ہیں:
"اگر کوئی شخص اپنے مال سے کسی زندہ شخص کی جانب سے اس کی اجازت کے بغیر زکاۃ ادا کر دے تو صحیح نہیں ہو گا، بصورت دیگر صحیح ہوگا۔ [یعنی فوت شدہ کی طرف سے بغیر اجازت ادا کرنا صحیح ہوگا۔]"

اس بنا پر اگر یہ خیراتی ادارہ فطرانہ ایسے شخص کی جانب سے ادا کرتا ہے جس نے انہیں اپنا نمائندہ ہی نہیں بنایا تو اس کی طرف سے فطرانہ ادا ہی نہیں ہوگا۔

دوم:

یہ خیراتی ادارہ رمضان یا رمضان سے پہلے اپنی ذاتی رقم سے اناج خرید سکتا ہے، پھر یہ ادارہ فطرانہ ادا کرنے والوں پر اس اناج کو فروخت بھی کر سکتا ہے، نیز یہ ادارہ فطرانہ ادا کرنے والوں کی طرف سے نمائندہ بھی بن سکتا ہے کہ عید سے ایک یا دو دن قبل ان کی طرف سے فطرانہ ادا کر دے۔

ہم پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ ہم نے اسی جیسا سوال شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے سامنے رکھا تھا، تو انہوں نے جواب دیا:

"اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ مرکز وقت سے پہلے کھانے پینے کی اشیا خرید لے اور پھر فطرانہ خریدنے والوں پر اسے فروخت کرے، اور شرعی وقت میں فطرانہ ادا کر دیا جائے" ختم شد

مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (71475) کا جواب ملاحظہ کریں۔

شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
کیا فطرانہ ادا کرنے والے کی طرف سے نمائندہ بنا جا سکتا ہے؟ وہ اس طرح کہ 15 رمضان کے بعد فطرانہ وصول کر لیا جائے اور پھر عید سے ایک یا دو دن قبل اسے تقسیم کر دیا جائے۔ اللہ تعالی آپ کی حفاظت فرمائے۔

تو انہوں نے جواب دیا:
"فطرانہ ادا کرنے کے لئے نمائندہ بننے میں کوئی حرج نہیں ہے، وہ اس طرح کہ آپ اپنے نمائندے کو فطرانے کا اناج سپرد کر دیں، یا اس کی قیمت دے دیں۔ نیز اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ ماہ رمضان کے آغاز میں کسی کو نمائندہ بنائیں یا درمیان میں۔

اس کے لئے افضل یہ ہے کہ جن افراد کی طرف سے فطرانہ ادا کیا جا رہا ہے انہی کے علاقے کے غریبوں میں تقسیم کیا جائے، فطرانے کی تقسیم کے لئے نمائندگی کرنے والے پر لازمی ہے کہ اپنے موکلین کے علاقے میں عید کے دن یا پھر ایک دو دن پہلے تقسیم کر دے۔ واللہ اعلم" ختم شد
http://cms.ibn-jebreen.com/fatwa/home/section/968

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں