اتوار 23 محرم 1441 - 22 ستمبر 2019
اردو

جنگی حالات کی وجہ سے تقابض مشکل ہونے کی صورت میں نقدی رقوم کی ترسیل کا حکم

268658

تاریخ اشاعت : 28-08-2019

مشاہدات : 128

سوال

کرنسی نوٹ کو ٹرانسفر کرنے اور ان میں ادھار کی صورت میں سود کا حکم فتاوی کے ذریعے جانتا ہوں، لیکن اگر ہمیں اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ہی میسر نہ ہو تو کیا کریں؟ مسئلہ یہ ہے کہ : شام میں حالات اس وقت بہت خراب ہیں، تو ہم اپنے اہل خانہ کو رقوم کی ترسیل کچھ یوں کرتے ہیں کہ: ہم رقوم بھیجنے والے شخص سے رابطہ کرتے ہیں اور زرِ مبادلہ کی شرح پر اتفاق کر لیتے ہیں، مثلاً: ایک ریال کے عوض 140 شامی لیرہ، یہ ریٹ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے معقول ہے، ہم پھر اس شخص کو کہتے ہیں کہ میں تمہارے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروا دیتا ہوں، مثلاً: 1000 ریال ڈپازٹ کروا دیتا ہوں اور رسید کی تصویر اسے بھیج دیتا ہوں تا کہ وہ اطمینان کر لے۔ پھر وہ شام میں کام کرنے والے اپنے کارندوں کے ذریعے شام کے شہروں میں منی ٹرانسفر کرنے والے دفاتر سے رابطہ کرتا ہے، اور انہیں ایک لاکھ چالیس ہزار لیرہ دے کر اندرون ملک رقوم کی ترسیل کا انتظام کرواتا ہے، اور رسید کی تصویر مجھ تک پہنچاتا ہے تا کہ مجھے اطمینان ہو جائے کہ یہ رقم میرے گھر والوں تک اس رسید کی بنیاد پر پہنچے گی، پھر میں اپنے گھر والوں سے کہتا ہوں کہ وہ منی ٹرانسفر کے دفتر میں جا کر رسید دکھائیں اور اپنی رقم وصول کر لیں۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے کام میں وقت لگ جاتا ہے، مثلاً: آغاز میں متعلقہ شخص کے اکاؤنٹ میں رقوم جمع کروانے کے لئے ایک گھنٹہ، پھر وہ اپنے کارندوں سے رابطہ کر کے اندرون ملک ٹرانسفر کرواتا ہے اس کے لئے دو گھنٹے، پھر اس کی رسید فوری طور پر مجھے بھیجتا ہے اور اس کے بعد میں اپنے گھر والوں کو پیسوں کے ٹرانسفر ہونے کے متعلق بتلاتا ہوں تو میرے گھر والے دو گھنٹے تک متعلقہ آفس میں جا کر پیسے وصول کرتے ہیں ، بسا اوقات اگلے روز بھی وصول کر لیتے ہیں، پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ رابطہ منقطع ہو جاتا ہے مثلاً: لوڈشیڈنگ کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پاتا۔ تو کیا اندرون ملک ترسیل زر کی رسید؛ رقم اپنے قبضے میں لینے کے حکم میں ہو گی؟ اسی طرح میرے اور متعلقہ شخص کے رقوم ٹرانسفر کرنے کے درمیان جو ایک گھنٹہ ہے اس کا شرعی حکم پر کوئی منفی اثر ہو گا؟ ہم اس طریقے کو اس لیے استعمال نہیں کرتے کہ اس سے زرِ مبادلہ کی شرح اچھی ملتی ہے، یا ریٹ مارکیٹ سے الگ ہوتا ، ہم اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ یہ آسان ترین راستہ ہے۔

جواب کا متن

الحمدللہ:

اول:

کرنسی نوٹوں کے لین دین کے وقت یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ ایک ہی مجلس میں خریدار اور فروخت کنندہ اپنی اپنی چیز قبضے میں لے لیں؛ کیونکہ کرنسی نوٹوں کے لئے وہی احکام ہیں جو سونے اور چاندی کے لئے ہیں، اور صحیح مسلم: (1587) میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (سونا، سونے کے بدلے۔ چاندی، چاندی کے بدلے۔ گندم، گندم کے بدلے۔ جو ، جو کے بدلے۔ کھجور، کھجور کے بدلے اور نمک ، نمک کے بدلے فروخت ہو تو ہم وزن ، برابر برابر اور نقد و نقد فروخت ہو گا، اگر ان میں سے کسی جنس کی فروخت دوسری جنس سے ہو تو پھر وزن میں جیسے مرضی فروخت کرو بشرطیکہ نقد و نقد ہو)

قبضے میں لینے کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک حقیقی اور دوسری حکمی صورت ہے۔

حقیقی یہ ہے کہ ایک ہی مجلس میں فوری نقد و نقد وصولی ہو جائے اور ہر ایک کی چیز اس کی ملکیت میں چلی جائے۔

حکمی کی متعدد صورتیں ہیں، مثلاً: سادہ چیک وصول کر لیں، یا مصدقہ چیک وصول کریں ، یا پے آرڈر کی کاپی وصول کر لیں۔

تو اگر آپ اپنے گھر والوں کو بینک کے ذریعے رقوم براہ راست ریمی ٹینس کر سکتے ہیں کہ آپ انہیں ریال دیں اور وہ بینک آپ کو شامی لیرے میں بینک ٹرانسفر کی کاپی دے دے، اور پھر آپ کے گھر والے آپ کے ملک میں بینک سے یہ رقوم وصول کر لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ رقوم کے تبادلے میں آپ نے حکمی طور پر قبضہ لے لیا ہے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (147284) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

اگر آپ اپنے گھر والوں کو براہ راست رقوم نہیں بھیج سکتے اور لازمی طور پر کسی ایجنٹ سے رابطہ کرنا پڑے گا جیسے کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے تو اس میں قدرے تفصیل ہے:

  1. اگر اس شخص تک رقوم شامی لیرے میں پہنچتی ہے ، یعنی آپ اس تک رقوم بینک ریمی ٹینس کے ذریعے ریالوں میں بھیجتے ہیں اور آپ اس کی رسید وصول کر لیتے ہیں پھر وہ شخص لیرے وصول کر کے ٹرانسفر آفس کے ذریعے آپ کے گھر والوں تک پیسے پہنچانے کی غرض سے اندرون ملک منی آرڈر تیار کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ آپ اور بینک کے درمیان کرنسی کے تبادلے کے بعد تقابض ہو گیا ہے، جیسے کہ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

آپ اس شخص کو یہ کام کرنے کی اجرت دے سکتے ہیں؛ کیونکہ یہاں اس کا کام اجرت کے عوض نمائندگی کرنے کا ہے۔

  1. اگر اس شخص کے پاس پیسے ریال یا ڈالر کی شکل میں پہنچتے ہیں، اور وہ خود انہیں لیروں میں تبدیل کروا کر آپ کے گھر والوں کے لئے منی آرڈر تیار کرواتا ہے تو یہ شکل جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں کرنسی کے تبادلے کے بعد آپ اور اس شخص کے درمیان تقابض نہیں ہوا۔

تو یہاں پر آپ کا اور اس شخص کا لین دین کرنسی ایکسچینج کا ہے، اور یہاں پر حقیقی یا حکمی کسی بھی قسم کا تقابض نہ ہونے کی وجہ سے یہ لین دین حرام ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ:

آپ دونوں کا نمائندہ دوسرے کے ملک میں موجود ہوں اور وہ دونوں کسی بھی مقررہ وقت میں اکٹھے ہو جائیں ، اور آپ جتنی رقم ٹرانسفر کرنا چاہتے ہیں ، یا اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کرنا چاہتے ہیں ایجنٹ کو دیں، اور اسی وقت اس ایجنٹ کا نمائندہ دوسرے ملک میں ٹرانسفر کرنے والے کے نمائندے کو دوسری مطلوبہ کرنسی میں رقم تھما دے، قبل ازیں کہ ایجنٹ اور ٹرانسفر کرنے والا اپنی مجلس برخاست کریں۔

صاحب کتاب "کشاف القناع" کہتے ہیں:
"اگر صرافے یعنی کرنسی ایکسچینج کا کام کرنے والے دو افراد اپنا اپنا نائب بنائیں اور دونوں ہی اپنے موکلوں کے الگ الگ ہونے سے پہلے رقم وصول کر لیں تو یہ لین دین جائز ہے، یعنی صحیح ہے؛ کیونکہ موکل کے نمائندے کا کسی چیز کو وصول کر لینا موکل کے وصول کرنے کے قائم مقام ہے۔"

سوم:

اگر ایسا کرنا مشکل ہو اور اس میں کافی تنگی بھی ہو تو:

ایسے حالات میں امید کی جاسکتی ہے کہ تقابض کی شرائط میں قدرے تخفیف کر دی جائے، ملک شام میں جنگی صورت حال کی بنا پر ضرورت یا شدید حاجت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی گنجائش ہو؛ کیونکہ وہاں رقوم کی منتقلی بہت مشکل ہے، اور کچھ مالی معاملات پیچیدہ بھی ہیں۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ لین دین کرنے والے زر مبادلہ کی شرح پر متفق ہو جائیں ، اور یہ بھی بتلا دیں کہ وہ کتنی مقدار میں دوسری کرنسی ادا کرے گا، تا کہ زر مبادلہ کی شرح دونوں کے لئے بالکل واضح ہو۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"کوئی سعودی نوٹ یہاں دے اور اس کے مساوی ڈالر بنا کر ایگریمنٹ ہو جائے ، پھر اسے صارف کے ملک میں ٹرانسفر کرے تو یہ محل نظر ہے؛ کیونکہ اس تبادلے میں تقابض نہیں ہے۔

لیکن میری یہ رائے ہے کہ ان شاء اللہ یہ درست ہوگا، اور اگر میں غلطی کروں تو اللہ تعالی مجھے معاف فرمائے: اگر ضرورت پڑنے پر ایسا کرنا پڑ جائے اور صارف کے ملک میں رقوم پہنچانے کا صرف یہی ایک طریقہ ہو تو مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اس سے مسلمانوں کے لئے آسانی پیدا ہوتی ہے اور کوئی ایسی قطعی دلیل بھی نہیں ہے جو اس سے منع کرتی ہو" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب" (233/ 1)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے "لقاء الباب المفتوح" (104/ 20) -مکتبہ شاملہ کی خود کار ترتیب کے مطابق- میں کہا ہے کہ:
"اس کی ضرورت کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جائز ہے؛ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں، تو اگر واقعی ایسا کرنا ممکن نہیں ہے تو یہ ضرورت ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے" ختم شد
واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں