جمعہ 19 صفر 1441 - 18 اکتوبر 2019
اردو

غیر معین کی طرف سے احرام کی مبہم نیت کی اور پھر بعد میں نیت معین کر لی، ایسا کرنا صحیح ہے؟

296220

تاریخ اشاعت : 07-07-2019

مشاہدات : 361

سوال

کسی کی طرف سے حج کی نیت کی اور میقات سے کسی غیر معین شخص کی طرف سے حج بدل کے لئے تلبیہ کہا، اس نے کسی کا نام نہیں لیا بس کسی غیر معین شخص کی طرف سے حج کا تلبیہ پڑھا، پھر بعد میں ایک شخص نے اس سے کہا کہ وہ اس کی طرف سے یا کسی اور تیسرے شخص کی طرف سے حج کرے، تو کیا اس کے لئے حج میں غیر معین حج کی نیت کو معین شخص کی طرف سے حج کی نیت میں بدلنا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

مبہم احرام کی نیت کرنے والے شخص کے متعلق فقہائے کرام کی مختلف آرا ہیں، مبہم سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی غیر معین فرد کی طرف سے نیت کرے، تو حنبلی فقہائے کرام کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں یہ نیت خود اسی شخص کی طرف سے ہو گی؛ کیونکہ احرام کی نیت معین شخص کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔

جبکہ حنفی، شافعی فقہائے کرام اور حنبلی فقہائے کرام میں سے القاضی اور ابو الخطاب اس بات کے قائل ہیں کہ: کسی غیر معین شخص کی طرف سے احرام کی نیت کرنا صحیح ہے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ حج کے افعال جیسے کہ طواف، سعی اور وقوف عرفات شروع کرنے سے پہلے پہلے معین کر لے۔

چنانچہ اگر حج کے افعال شروع کرنے تک اپنی نیت معین نہ کی تو حج خود اسی کی طرف سے ہو جائے گا۔

ابن مفلح رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کوئی شخص دو افراد کی طرف سے احرام کی نیت کرے تو وہ خود اسی کی طرف سے ہو گا، اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے ؛ کیونکہ ایک احرام دو کی طرف سے ہو ہی نہیں سکتا، نہ ہی یہاں ان دو میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا ممکن ہے، یہ تو ایسے ہی ہے کہ وہ زید کی طرف سے اور اپنی طرف سے احرام کی نیت کرے، [تو ایسے میں خود اسی کی طرف سے احرام متصور ہو گا]۔

ایسے ہی اگر وہ دو میں سے کسی ایک کی طرف سے احرام کی نیت کرتا ہے تب بھی خود اسی کی طرف سے احرام کی نیت ہوگی؛ کیونکہ احرام کی معین نیت کا حکم ہے۔

جبکہ القاضی اور ابو الخطاب نے یہ موقف اپنایا ہے کہ: مبہم نیت کرنے والا جس کے لئے چاہے احرام کی نیت بنا سکتا ہے؛ کیونکہ غیر معین کی طرف سے احرام کی نیت کی جا سکتی ہے، اس لیے یہ نیت صحیح ہو گی۔

حنفی فقہائے کرام کہتے ہیں: استحسان یہ ہے کہ : احرام ایک ہدف کا ذریعہ ہے، اور مبہم چیز جس نے آگے چل کر معین بن جانا ہو وہ کسی بھی ہدف کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس لیے [شرائط حج میں]مبہم نیت پر اکتفا کر لیا گیا۔

چنانچہ اگر وہ معین کرنے سے پہلے طواف کا یا سعی کا چکر لگا لے یا وقوف عرفات کر لے تو وہ خود اسی کی طرف سے ہو جائے گا؛ کیونکہ اب اس عمل کی نیت میں تبدیلی نہیں آ سکتی، اور نہ ہی یہ اعمال کسی غیر معین شخص کی طرف سے ہو سکتے ہیں۔" ختم شد
"الفروع" (5/ 386)

اسی طرح "مجمع الأنهر" (1/ 308) میں ہے کہ:
"اگر احرام کی نیت مبہم رکھی کہ اس نے معین نہیں کیا کہ حج کی نیت ہے یا عمرے کی نیت ، تاہم اس نے افعال حج یا عمرہ شروع کرنے سے پہلے معین کر لیا تو طرفین کے ہاں اس کا یہ عمل صحیح ہے، ان کی دلیل استحسان ہے؛ کیونکہ احرام ایک عبادت کا وسیلہ ہے اور جس مبہم میں اتنی گنجائش ہو کہ وہ بعد میں معین ہو جائے تو وہ وسیلہ بن سکتا ہے۔ اس بارے میں ابو یوسف اختلاف رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ: مبہم نیت خود اسی کی طرف سے واقع ہو جائے گی؛ کیونکہ معین نیت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ابہام اس سے متصادم عمل ہے، ابو یوسف کا یہ قول قیاس کے مطابق ہے ، اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی کسی کو حج کرنے کا کہے اور دوسرا کوئی شخص اسی کو عمرے کا کہہ دے، اور یہ ان دونوں کی طرف سے ایک ہی نیت سے ادا کر دے [تو یہ اسی صورت میں جائز ہو گا] جب وہ دونوں اس طرح کرنے کی اجازت دیں۔

تاہم جب افعال حج یا عمرہ شروع ہو جائیں تو پھر کسی دوسرے کی طرف سے نیت کرتے ہوئے تعیین کرنا جائز نہیں ہے، اس پر سب کا اتفاق ہے۔" ختم شد

یہی موقف "الهداية شرح البداية" (1/ 179) میں بھی موجود ہے۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر کسی آدمی کو دو الگ الگ افراد حج کرنے کے لئے اجرت پر لیں، یا دونوں ہی اجرت کے بغیر ہی اپنی اپنی طرف سے حج کرنے کا کہیں اور یہ شخص ان کی طرف سے حج کی نیت معین کیے بغیر کر لیتا ہے معین نہیں کرتا، تو اس کا یہ احرام کسی ایک کی طرف سے ہو جائے گا، تاہم افعال حج شروع ہونے سے پہلے کسی ایک کی طرف سے معین کرنے کا اسے اختیار ہو گا۔

یہ ہمارا [شافعی]فقہی موقف ہے عبدری نے اسی کو ہمارے موقف کے طور پر نقل کیا ہے، اسی کے ابو حنیفہ اور محمد بن حسن شیبانی قائل ہیں۔

جبکہ ابو یوسف کہتے ہیں کہ: ایسی صورت میں حج خود اسی کی طرف ہو گا۔" ختم شد
"المجموع" (7/ 138)

مندرجہ بالا تفصیلات کی بنا پر:

اگر اس حاجی نے طواف کرنے ، یا طواف نہ کرنے کی صورت میں وقوف عرفہ سے پہلے اس شخص کی تعیین کر دی تھی جس کی طرف سے وہ حج کر رہا تھا تو حج اسی کی طرف سے ہو گیا ہے جس کی طرف سے تعیین کی۔ بصورت دیگر اس کی اپنی طرف سے حج ہوا ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں