ar

105728: آنے والے رشتہ كى حالت كيسے معلوم كر سكتى ہے ؟


ميرى بہن كى ايك ايسے شخص كے ساتھ منگنى ہوئى جو ابتدائى طور پر تو دين والا اور صاحب اخلاق معلوم ہوا ليكن منگنى كے عرصہ ميں انكشاف ہوا كہ يہ سب كچھ بھيس تھا اور حقيقت ميں ايسا نہيں تھا اس ليے اس نے اس رشتہ كو ختم كرنا ہى بہتر سمجھا.
اب ايك اور نوجوان كا رشتہ آيا ہے جو ظاہرى طور پر تو دين كا التزام كرنے والا معلوم ہوتا ہے، ميرى بہن نے ابھى تك اسے نہيں ديكھا، اور دوبارہ وہى غلطى نہ ہو آپ يہ بتائيں كہ كونسے ايسے سوالات ہيں جو دريافت كيے جائيں تا كہ اس نوجوان كى حالت معلوم ہو اور اس كے باطن كو پہچانا جا سكے اور اس كے ظاہر سے دھوكہ نہ كھايا جائے ؟

Published Date: 2010-12-09

الحمد للہ:

ايك كامياب شادى كے اركان ميں آنے والے رشتہ كى اخلاقى اور دينى اہليت پركھنا اور ديكھنا شامل ہے، اس كے ساتھ دوسرا ركن يہ ہے كہ ميلان قلبى اور عاطفت ميں موافقت بھى ہو يعنى دل مانتے اور اس كى طرف مائل ہو.

ليكن ايسا لگتا ہے كہ اس ميں اہم ركن دينى طور پر صحيح ہونا اور حسن اخلاق كا مالك ہونا ہى شمار كيا جائيگا؛ كيونكہ ہر كامياب تعلقات كى اساس اور بنياد اخلاق اور دين ہى ہے، اور ہر سعادتمند گھر كا ايك ركن ہے، چاہے اس ميں تمام محبت اور عاطفت نہ بھى ہو.

اس ليے حتى الامكان اس ركن كا اہتمام كرنا ضرورى ہے زيادہ فائدہ مند اور زيادہ صحيح اختيار كرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالى سے نصرت و معاونت حاصل كرنى چاہيے.

اس چيز كو پورا كرنے كے ليے ہم اپنى سائلہ بہن كے ساتھ مل كر كچھ وسائل پر غور كرتے ہيں جن كے ذريعہ اس ميں كامياب ہوا جا سكتا ہے:

1 ـ آنے والے رشتہ كے دوست و احباب كے بارہ ميں باز پرس كى جائے جو اس كے ساتھ رہتے ہيں اور اس كے ہم پيالہ اور ہم نوالہ ہيں.

ہمارے اندازے كے مطابق منگيتر كى كامل شخصيت تك پہنچنے كے ليے اہم ترين طريقہ يہى ہے، ليكن يہاں اس پر متنبہ رہنا ہوگا كہ ان سے جو سوالات كيے جائيں وہ محدد ہوں مجمل نہ ہوں، اس سے ہمارى مراد يہ ہے كہ مثال كے طور اگر اس كے كرم كے بارہ ميں سوال ہو تو اس اخلاق كا تناسب متعين كيا جائے، اسى طرح اس كے حلم و بردبارى اور معاف كرنے يا دوسرے اخلاق كے متعلق جو لڑكى كے ليے اہم ہيں انہيں بھى محدد كيا جائے.

اكثر لوگ يہ غلطى كرتے ہيں كہ وہ منگيتر سے مجمل سوال دريافت كرتے ہيں جو غالبا ايك مبہم سے صورت پيش كرتا ہے اور اكثر طور پر دوستوں كے جذبات غالب آ جائے ہيں اس طرح وہ اپنے دوست كى تعريف ہى كرينگے، اور اس طرح لڑكى اپنے منگيتر كے بارہ ميں تفصيل تك نہيں پہنچ پاتى.

اس كے دوستوں كے ساتھ زيادہ سے زيادہ بيٹھا جائے، اور ان كے ساتھ زندگى ميں اس شخص كے موقف كى تفصيلات طلب كى جائيں، اور اس كے بارہ اہم ياداشت پوچھى جائيں، اس كا معنى يہ ہوا كہ سوال سوچ سمجھ كر اور ٹھر كر كيا جائے تا كہ صحبت و معاشرت كے سبب سے قابل اطمنان جواب دينے والے كو تلاش كرنے كى فرصت حاصل ہو، صرف عام معرفت يا پڑوسى يا دور كى رشتہ دارى ہى نہيں.

بلكہ آنے والے رشتہ كے دوست و احباب اور اس كے بھائيوں اور خاندان اور گھر والوں كے اخلاق كو ديكھنا اس شخص كے اپنے اخلاق كا بہت بڑا مؤشر ہے، كيونكہ انسان اپنے دوست كے دين پر ہوتا ہے، اور پھر ايك قديم مثل بھى ہے كہ: مجھے اپنے دوستوں كے بارہ ميں بتاؤ تو ميں تمہيں بتاتا ہوں كہ تم كون ہو.

ليكن براہ راست سوال كرنے كى بجائے اس مؤشر پر اكتفا نہيں كرنا چاہيے.

ہمارى عزيز بہن آپ كو يہ علم ہى ہے كہ يہ سبب كچھ دلہن خود نہيں كرتى بلكہ يہ كام تو اس كے ولى نے يا پھر جن قابل بھروسہ افراد كو وہ اس كا ذمہ دار بنائے جو لڑكى كا محرم ہو يا پھر كوئى اور.

2 ـ منگيتر كى حالت كے بارہ ميں عملى باز پرس كرنا:

جمعہ اور جماعت اور علمى حلقات اور خير و بھلائى كى مجلسوں ميں حاضر ہونے كو مدنظر ركھنا كہ آيا وہ يہا حاضر ہوتا ہے يا نہيں، اور لوگوں كے ساتھ اس كے احسان كو تلاش كرنا، اور لوگوں كى خوشى و غمى ميں شريك ہونا، اور اگر ممكن ہو سكے تو براہ راست اس كے صبر و حلم كے درجہ كا امتحان لينا، اور بغير كسى تكلف كے اس كے عملى م وقف كو ديكھنا.

3 ـ لڑكى كے اولياء كا منگيتر كے ساتھ اٹھنا بيٹھنا اور اس سے بات چيت كرنا، تا كہ وہ اس كى سوچ و تفكير كے طريقہ كو قريب سے ديكھيں، اور اس كے افق كى وسعت معلوم كريں اور اس كى ثقافت اور عقلى درجہ كا علم حاصل كر سكيں اور اس كے منطق كا ميزان معلوم كريں.

ان وسائل كى تطبيق كے ليے لڑكى كے ولى سے كچھ جدوجھد كا مطالبہ كرتا ہے، كيونكہ لڑكى كے ولى پر اس كى پورى مسؤليت اور ذمہ دارى كا بوجھ ہے، يا پھر ايسے شخص پر جو لڑكى كے گھر سے تعلق ركھے يا اس كا بيٹا ہو اس پر يہ بوجھ ہے؛ ليكن يہ سب كچھ اس صورت ميں ہو سكتا ہے جب وہ اپنى ذمہ دارى كا احساس كرتا ہو كہ اسے اپنى لڑكى كے ليے خاوند اختيار كرنے كى ذمہ دارى سونپى گئى ہے اس ليے وہ كوئى مناسب شخص اختيار كرے، اس طرح اس پر يہ سب كچھ آسان ہو جائيگا، اور يہ امانت ادا كرنے ميں جتنے بھى مصائب ہونگے اس كے ليے وہ سب برداشت كر سكےگا.

رہا يہ مسئلہ كہ آنے والے رشتہ كے متعلق ديكھنا كہ وہ مساجد ميں نماز كى پابندى كرتا ہے، يا پھر التزام اور وقار جيسى زنيت سے اپنے آپ كو مزين كيے ہوئے ہے، يہ انتہائى سنگين قسم كى غلطى ہے جس كا نتيجہ شادى كى ناكامى ہے كيونكہ بہت جلد يہ انكشاف ہوتا ہے كہ اكثر لوگ باطن كى بجائے غير حقيقى طور پر اپنے آپ كو مزين ركھتے ہوئے ظاہر كا اہتمام كرتے ہيں، فرائض كى تو ادائيگى كرتے ہيں ليكن اپنے آپ كو بااخلاق بنانے كى حرص نہيں ركھتے، اور نہ ہى اپنے اندر صفات حميدہ پيدا كرنے كى كوشش كرتے ہيں، آج كل عام لوگ اس بيمارى كا شكار ہيں، اللہ محفوظ ركھے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ " فتاوى نور على الدرب " ميں نكاح كے فتاوى جات ميں خاوند يا بيوى اختيار كرنے كے متعلق كہتے ہيں:

" لڑكيوں كے اولياء كو ان كى شادى كے متعلق ہمارى نصيحت ہے كہ: يہ بات تو سب كو معلوم ہے كہ عورت كے ولى پر امانت كى ادائيگى واجب ہے، وہ اس اعتبار سے كہ عورت كے ولى كو اس كى شادى كسى ايسے شخص نے نہيں كرنى چاہيے جس كا دين اور اخلاق اچھا اور پسند نہ ہو، چاہے عورت اس كى رغبت بھى ركھتى ہو؛ كيونكہ عورت تو اپنى عقل ميں سوچنے سے قاصر ہے، ہو سكتا ہے وہ اپنے ليے كسى ايسے شخص شخص كو اختيار كر لے جسے وہ شكل و صورت كى بنا پر پسند كرتى ہو اور اس كا دين پسند نہ ہو، يا پھر اسے اس شخص كى فصاحت و بلاغت اچھى لگتى ہو تو وہ اسے اختيار كر لے، اس حالت ميں عورت كے ولى كو چاہيے كہ وہ اس شخص سے شادى نہ كرنے دے " انتہى

اور شيخ رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

" آنے والے رشتہ كے بارہ ميں باز پرس كرنا اور اس كى كھوج لگانا واجب موكد ہے، خاص كر ايسے وقت ميں جبكہ آج كل اچھے اور برے كى پہچان نہيں رہى، اور جعلى سازى جھوٹے وصف كى بھرمار ہو چكى ہے، اور جھوٹى گواہياں اور سرٹفكيٹ عام ہو چكے ہيں.

ہو سكتا ہے كسى ايسے شخص كا رشتہ آئے جو ظاہرى طور پر تو نيك و صالح اور حسن خلق كا مالك معلوم ہوتا ہو ليكن حقيقت ميں ايسا نہيں.

اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ وہ اپنے ظاہر پر ملمع سازى بھى كر لے، اور لڑكى كے گھر والوں اور لڑكى كے ساتھ جعل سازى كر كے انہيں نيك و صالح اور بااخلاق باور كرائے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ اس لڑكے كے گھر والے بھى اس جعل سازى ميں اس كا ساتھ ديتے ہوں.

اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ لڑكے كے گھر والوں كے علاوہ كوئى اور بھى آ كر گواہى دے كہ يہ لڑكا نيك و صالح ہے، ليكن جب عقد نكاح ہو جائے تو يہ پتہ چلے كہ وہ لڑكا تو دين اور اخلاق كا مالك نہيں ہے.

اس ليے ميرى رائے يہ ہے كہ اس كے بارہ ميں يقينى طور پر باز پرس كى جائے، اور پورى باريك بينى سے كوشش كى جائے اگر اس سلسلہ ميں جواب دينے كے ليے دس يا بيس روز يا پھر ايك ماہ انتظار كرنا پڑے تو بھى كوئى حرج نہيں، تا كہ انسان بصيرت اختيار كر سكے.

اور جب يہ واضح ہو جائے كہ آنے والا رشتہ مطلوبہ اور مرغوب اوصاف كا حامل ہے، اور اس كا دين اور اخلاق پسنديدہ ہے تو اس سے شادى كر دى جائے، اس طرح كے شخص كے ساتھ شادى كى رغبت ركھنے پر كسى شخص كو بھى اعتراض كرنے كا حق حاصل نہيں كہ وہ كسى بھى دليل سے اعتراض كرے " انتہى

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ ہميں اور آپ كو حسن اخلاق كا مالك بنائے كيونكہ حسن اخلاق كا مالك بنانے والا تو صرف وہى اللہ رب العزت ہے، ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اور آپ كو برے اخلاق اور برے اعمال سے محفوظ ركھے، كيونكہ ان سے محفوظ ركھنے والا اللہ سبحانہ و تعالى ہى ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments