27259: بوس و کنار، خلوت وغیرہ پر مشتمل زنا کے ابتدائی امور کا حکم


سوال: ایسے شخص کا کیا حکم ہے جو لڑکیوں سے زنا تو نہیں کرتا تھا لیکن بوس و کنار کرتا تھا؟

Published Date: 2016-02-29

الحمد للہ:

زنا صرف شرمگاہ سے نہیں ہوتا بلکہ زنا ہاتھ سے بھی ہوتا ہے اور وہ ہے کسی اجنبی کو ہاتھ لگانا، آنکھ کا زنا یہ ہے کہ کسی حرام چیز کو دیکھنا، البتہ یہ الگ بات ہے کہ حد صرف شرمگاہ والے زنا پر ہی لگتی ہے۔

چنانچہ اس بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ  : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے ہر ابن آدم پر زنا کا کچھ نہ کچھ حصہ لکھ دیا ہے، جو اسے لازمی ملوّث کرے گا، چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنے سے ہوتا ہے، زبان کا زنا بولنے سے ہوتا ہے، دل کا زنا تمنا اور چاہت کرنے سے ہوتا ہے، اور شرمگاہ اس تمام کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے)" بخاری: (5889) مسلم: (2657)

اس لیے کسی بھی مسلمان کو بوس و کنار، خلوت اور ادھر اُدھر نظریں مارنے پر مشتمل زنا کے ابتدائی مراحل کے بارے میں سستی اور کاہلی نہیں برتنی چاہیے، کیونکہ انہی کی وجہ سے انسان زنا میں ملوّث ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا}
ترجمہ: زنا کے قریب بھی مت جاؤ، کیونکہ یہ بے حیائی ہےاور برا راستہ ہے۔ [الإسراء : 32]

نظروں کو حرام راستے پر استعمال کرنا شیطان کے کامیاب ترین حملوں میں شمار ہوتا ہے، اس کی وجہ سے انسان ہلاکت و تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے، اگرچہ ابتدا میں برائی کا ارادہ نہ بھی ہو ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے مؤمنین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ}
ترجمہ: مؤمنین سے کہہ دیں کہ: اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کیلئے زیادہ پاکدامنی کا باعث ہے، بیشک اللہ تعالی تمہارے اعمال سے بالکل باخبر ہے [30] اور آپ مؤمن خواتین سے بھی کہہ دیں: اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں۔[النور : 30 - 31]

ان آیات پر غور کریں کہ اللہ تعالی نے کس طرح نظروں کی حفاظت کیساتھ شرمگاہ کی حفاظت کو منسلک کیا ہے، اور اس کیلئے شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دینے کی بجائے پہلے آنکھوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا؛ کیونکہ نظریں دل کیلئے پیغام لیکر جاتی ہیں۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اللہ تعالی نے ان دو آیات میں مؤمن مرد و خواتین دونوں کو نظریں جھکا کر رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا؛ صرف اس لیے کہ زنا کا معاملہ بہت ہی سنگین ہے، اس کی وجہ سے مسلمانوں میں پھیلنے والا فساد اور اس کے منفی اثرات بہت دور رس ہوتے ہیں ، ویسے بھی نظروں کو بے لگام چھوڑنے سے دلی بیماریوں کے دروازے کھلتے ہیں، اور انسان گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے، ان گناہوں سے بچنے کیلئے نظروں کی حفاظت بنیادی اکائی ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ }
ترجمہ: مؤمنین سے کہہ دیں کہ: اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کیلئے زیادہ پاکدامنی کا باعث ہے، بیشک اللہ تعالی تمہارے اعمال سے بالکل باخبر ہے ۔[النور : 30 ]

اس لیے نظریں جھکا کر رکھنا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا مؤمن کیلئے دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں پاکیزگی کا باعث ہے، جبکہ نظروں کو بے لگام چھوڑنا اور شرمگاہ کی حفاظت نہ کرنے سے دنیا و آخرت میں سزائیں ملیں گی، اللہ تعالی ہم سب کو محفوظ فرمائے۔

اسی طرح اللہ تعالی نے آیت کے آخر میں یہ بھی واضح کر دیا کہ اللہ تعالی لوگوں کے ایک ایک کام سے باخبر ہے، اللہ تعالی سے کسی کا کوئی عمل بھی پوشیدہ نہیں ہے، اللہ تعالی کی یہ صفت بیان کر کے اصل میں لوگوں کو گناہوں کے ارتکاب سے خبردار کیا گیا ہے، مبادا شریعت سے رو گردانی نہ کریں، مزید ایک مؤمن کیلئے یاد دہانی بھی ہے کہ اللہ تعالی اس کے ایک ایک اچھے عمل کو جانتا ہے، جیسے کہ ایک اور مقام پر فرمایا:
{يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ}
اللہ نظروں میں چھپی باتوں اور سینے میں چھپے رازوں سے بھی با خبر ہے۔[غافر : 19]" انتہی
ماخوذ از کتاب: " التبرج و خطره "

چنانچہ مسلمان کو خلوت و جلوت ہر حالت میں اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے، اجنبی خواتین کیساتھ علیحدگی، حرام چیزوں کو دیکھنے ، عورتوں کیساتھ ہاتھ ملانے اور بوس و کنار سمیت زنا کے ابتدائی مراحل اور دیگر اسی طرح کے تمام حرام امور سے اپنے آپ کو دور رکھے۔

گناہ گار شخص اس دھوکے میں مت رہے کہ وہ زنا میں ملوّث نہیں ہوگا، بس انہی ابتدائی مراحل پر ہی اکتفا کریگا، کیونکہ شیطان اسے مزید ورغلاتا رہے گا، اگر چہ صرف بوس و کنار کی وجہ سے زنا والی حد لاگو نہیں ہوتی، لیکن حکمران اس قسم کے گناہوں سے باز رکھنے کیلئے تعزیری سزا دے سکتا ہے۔

چنانچہ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"تعزیری سزا ان تمام گناہوں میں دی جا سکتی ہے جس کا کوئی کفارہ یا حد نہیں ہے؛ کیونکہ اس اعتبار سے گناہوں کی تین اقسام ہیں:
1- ایسا گناہ جس میں حد تو ہے لیکن کفارہ نہیں ہے
2-جس میں کفارہ ہے حد نہیں ہے
3- جس میں کفارہ اور حد دونوں نہیں ہیں

پہلی کی مثال: چوری، شراب نوشی، زنا، اور تہمت
دوسری کی مثال: رمضان میں دن کے وقت جماع، احرام کی حالت میں جماع ہے
تیسری کی مثال: کسی ایسی لونڈی سے جماع کرنا جس میں کوئی اور مرد بھی شریک مالک ہو، کسی اجنبی عورت کو بوسہ دینا، عوامی حمام میں زیر جامہ کے بغیر داخل ہونا، مردار ، خون، سور کا گوشت کھانا وغیرہ" انتہی
ماخوذ از: " إعلام الموقعین " ( 2 / 77 )

اگر کوئی شخص ایسے امور میں ملوّث ہو چکا ہے تو وہ اللہ تعالی سے سچی توبہ کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور جو توبہ کر لے وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا۔

اس قسم کے گناہوں کا کفارہ بننے کیلئے پانچوں نمازوں کی پابندی جیسا کوئی نیک عمل نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک، رمضان سے رمضان تک  درمیان میں آنے والے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے) مسلم: (1/209)

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments