38622: لواطت كا انجام


لواطت كى سزا كيا ہے، اور كيا فاعل اور مفعول كے مابين كوئى فرق پايا جاتا ہے ؟

Published Date: 2007-07-20

الحمد للہ:

اول:

لواطت كا جرم سب جرائم سے بڑا، اور سب گناہوں سے سب سے زيادہ قبيح گناہ ہے، اور افعال ميں سے غلط ہے، اس كے مرتكب افراد كو اللہ تعالى نے وہ سزا دى ہے جو كسى اور امت كو نہيں دى، اور يہ جرم فطرتى گراوٹ، اور بصيرت كے اندھے پن، اور عقلى كمزورى، قلت دين پر دلالت كرتا ہے، اور ذلت و پستى كى علامت، اور محرومى كا زينہ ہے، اللہ تعالى سے ہم عافيت و معافى طلب كرتے ہيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جب لوط ( عليہ السلام ) نے اپنى قوم كو كہا كيا تم ايسى فحاشى كرتے ہو جو تم سے قبل كسى نے بھى نہي كى، يقينا تم عورتوں كى بجائے مردوں سے شہوت والے كام كرتے ہو، بلكہ تم تو حد سے بڑھى ہوئى قوم ہو، اس كى قوم كا جواب تھا كہ اسے تم اپنى بستى سے نكال باہر كرو يہ پاكباز لوگ بنے پھرتے ہيں، تو ہم نے اسے اور اس كے گھر والوں كو نجات دى، مگر اس كى بيوى پيچھے رہ جانے والوں ميں سے تھى، اور ہم نے ان پر آسمان سے پتھروں كى بارس برسائى، تو آپ ديكھيں كہ مجرموں كا انجام كيا ہوا ﴾الاعراف ( 80 - 84 ).

اور ايك دوسرے مقام پر اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان كچھ اس طرح ہے:

﴿ تيرى عمر كى قسم يقينا يہ تو اپنى مدہوشى ميں حيران پھرتے ہيں تو انہيں صبح كے وقت ايك چنگاڑ نے پكڑ ليا، اور ہم نے ان كى بستى كا اوپر والا حصہ نيچے كر ديا، اور ہم نے ان پر آسمان سے كنكروں كى بارش برسائى، يقينا اس ميں عقلمندوں كے ليے نشانياں ہيں، اور يہ باقى رہنے والى راہ ہے ﴾الحجر ( 72 - 76 ).

اس كے علاوہ كئى ايك آيات اور بھى ہيں.

ترمذى، ابو داود اور ابن ماجہ ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے حديث مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم جسے قوم لوط والا عمل كرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں كو قتل كر دو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1456 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4462 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2561 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور مسند احمد ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما ہى سےمروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" قوم لوط جيسا عمل كرنے والے پر اللہ تعالى لعنت فرمائے، اللہ تعالى اس شخص پر لعنت فرمائے جو قوم لوط والا عمل كرتا ہے، يہ تين بار فرمايا"

مسند احمد حديث نمبر ( 2915 ) مسند احمد كى تحقيق ميں شيخ شعيب الارناؤط نے اسے حسن قرار ديا ہے.

اور صحابہ كرام كا لوطى عمل كرنے والے كو قتل كرنے پر اجماع ہے، ليكن اسے قتل كرنے كے طريقہ ميں اختلاف كيا ہے.

ان ميں سے بعض صحابہ كرام تو اسے جلا كر قتل كرنے كے قائل ہيں مثلا على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہما، اور ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ كا بھى يہى قول ہے، جيسا كہ آگے بيان ہو گا.

اور ان ميں سے بعض كى رائے ہے كہ اسے اونچى جگہ سے گرا كر اس پر پتھر برسائے جائيں مثلا ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى رائے يہى ہے.

اور بعض صحابہ كرام اسے پتھروں سے رجم كرنے كے قائل ہيں حتى كہ وہ ہلاك ہو جائے، يہ بھى ابن عباس اور على رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے.

اور ان ميں سے بعض كا قول ہے كہ اسے قتل كيا جائيگا چاہے وہ كسى بھى حالت ميں ہو، شادى شدہ ہو يا غير شادى شدہ.

اور كچھ كا قول ہے كہ: بلكہ زانى جيسى سزا دى جائيگى، اگر تو شادى شدہ ہے تو اسے رجم كيا جائيگا، اور اگر غير شادى شدہ ہے تو اسے كوڑے مارے جائينگے.

اور بعض كا قول ہے كہ: اسے شديد قسم كى وہ تعزير لگائى جائيگى جسے حكمران مناسب سمجھے.

اس مسئلہ ميں ابن قيم رحمہ اللہ نے تفصيل بيان كرتے ہوئے فقھاء كرام كے دلائل بيان كرنے كے بعد اس كا مناقشہ بھى كيا ہے، اور پہلے قول كى تائيد كى ہے، انہوں نے اس فاحش اور منكر كام كا علاج اپنى كتاب " الجواب الكافى لمن سأل عن الدواء الشافي " ميں تفصيلا بيان كيا ہے، يہاں ہم ان كى كلام كا كچھ حصہ ذكر كرتے ہيں:

" اور جب لواطت سب فساد اور خرابيوں سے زيادہ بڑى تھى تو دنيا و آخرت ميں اس كى سزا بھى سب سزاؤں سے بڑى ہوئى.

اس كى سزا ميں لوگوں كا اختلاف ہے كہ آيا اس كى سزا زنا سے بڑى ہے يا كہ زنا كى سزا بڑى ہے، يا دونوں كى سزا برابر ہے ؟

اس ميں تين قول پائے جاتے ہيں:

ابو بكر صديق اور على بن ابى طالب، اور خالد بن وليد، اور عبد اللہ بن زبير، اور عبد اللہ بن عباس رضى اللہ تعالى عنہم، اور امام مالك، اسحاق بن راہويہ، اور امام احمد اصح ترين روايت ميں، اور امام شافعى اپنے ايك قول ميں اس طرف گئے ہيں كہ اس كى سزا زنا سے زيادہ سخت ہے، اور ہر حالت ميں اس كى سزا قتل ہے، چاہے شادى شدہ ہو يا غير شادى شدہ.

اور امام شافعى ظاہر مذہب، اور امام احمد دوسرى روايت ميں يہ كہتے ہيں كہ: اس كى سزا اور زانى كى سزا برابر ہے.

اور امام ابو حنيفہ كا كہنا ہے كہ اس كى سزا زانى كى سزا سے كم ہے اور وہ تعزير ہے. "

ابن قيم رحمہ اللہ يہاں تك كہتے ہيں:

" پہلے قول والے جو كہ جمہور امت ہيں، اور كئى ايك نے صحابہ كرام كا اس پر اجماع بيان كيا ہے ان كا كہنا ہے:

خرابيوں اور فساد ميں لواطت سے بڑھ كر كوئى خرابى اور فساد نہيں جو كفر كى خرابى سے ملتى ہے، اور بعض اوقات تو اس قتل سے بھى بڑھ كر ہے جيسا كہ ہم ان شاء اللہ بيان بھى كرينگے.

ان كا كہنا ہے: اللہ تعالى نے قوم لوط سے قبل كسى بھى قوم كو اس ميں مبتلا نہيں كيا، اور نہ ہى انہيں ايسى سزا دى جو كسى اور امت كو نہيں دى گئى، اور ان كو كئى قسم كى سزا دى گئى، جن ميں ان كى ہلاكت كے ساتھ ساتھ ان كے گھروں كو ان پر الٹا كر گرانا، اور انہيں زمين ميں دھنسانے كے ساتھ ساتھ آسمان سے پتھروں كى بارش كرنا، اور انہيں كى آنكھوں كو پھوڑ كر ركھ دينا، اور ان كا عذاب مستقل كرنا، تو اللہ تعالى نے ان كا انجام ايسا كيا اور انہيں وہ سزا دى جو كسى اور كو نہيں دى.

يہ اس اس عظيم جرم كى بنا پر تھى جس كى بنا پر قريب تھا كہ زمين پر اس عمل كا ارتكاب كرنے كى وجہ سے زمين ہلنے لگتى، اور جب فرشتے اس كا مشاہدہ كرتے تو اہل زمين پر عذاب نازل ہونے كےڈر سے وہ آسمان كى طرف بھاگ نكلتے كہ كہيں وہ بھى عذاب سے دوچار نہ ہو جائيں، اور زمين اپنے پروردگار كے سامنے احتجاج كرنے لگتى، اور پہاڑ اپنى جگہ سے ہل جاتے.

بدفعلى كيے جانے والے شخص كے ليے بہتر ہے كہ اسے قتل كر ديا جائے، كيونكہ جب كوئى شخص اس كے ساتھ بدفعلى كرتا ہے تو اسے وہ ايسا قتل كرتا ہے جس كے ساتھ زندگى كى اميد ہى نہى كى جا سكتى، بخلاف اس شخص كے جسے وہ قتل كر دے تو وہ مظلوم اور شہيد ہوتا ہے، اس كى دليل ( يعنى لواطت قتل سے بھى بڑى خرابى اور فساد ہے ) يہ ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے قاتل كى حد كو مقتول كے ولى كے اختيار ميں ركھا ہے چاہے تو وہ اسے معاف كردے، اور چاہے تو اس سے قصاص لے، ليكن لواطت كى حد كو حتمى طور پر قتل ہى قرار ديا ہے، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كا اس پراجماع ہے، اور سنت نبويہ بھى اس كى صراحت كرتى ہے، اور اس كا كوئى مخالف نہيں، بلكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام اور ان كے خلفاء راشدين رضى اللہ تعالى عنہم نے اس پر عمل بھى كيا ہے.

صحيح روايت سے ثابت ہے كہ خالد بن وليد رضى اللہ تعالى عنہ نے عرب كے ايك علاقے ميں ديكھا كہ ايك مرد كے ساتھ وہى كچھ كيا جاتا ہے جس طرح عورت كے ساتھ تو انہوں نے ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ كو خط لكھا، چنانچہ ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ نے صحابہ كرام سے مشورہ كيا، تو اس كے متعلق ان سب ميں زيادہ شديد قول على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ كا تھا، وہ كہنے لگے:

ايسا فعل تو صرف ايك امت نے كيا تھا، اور تمہيں علم ہے كہ اللہ تعالى نے ان كے ساتھ كيا سلوك كيا، ميرى رائے ہے كہ انہيں آگ ميں جلا كر راكھ كر ديا جائے، تو ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ كو انہيں جلا كر راكھ كر دينے كا لكھا.

اور عبد اللہ بن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كا قول ہے:

بستى اور شہر ميں سب سے اونچى عمارت ديكھ كر لواطت كرنے والے شخص كو اس سے گرا كر اوپر سے پتھر برسائے جائينگے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما نے اس حد كو قوم لوط كے عذاب سے اخذ كيا ہے.

اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ روايت كرتے ہيں كہ:

" جسے تم قوم لوط والا عمل كرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں كو قتل كر دو "

اسے اہل سنن نے روايت كيا ہے، اور ابن حبان وغيرہ نے صحيح قرار ديا ہے، ا ور امام احمد رحمہ اللہ نے اس حديث سے حجت اور دليل پكڑى ہے، اور اس كى سند بخارى كى شرط پر ہے.

وہ كہتے ہيں: اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ:

" اللہ تعالى قوم لوط والا عمل كرنے والے پر لعنت كرے، اللہ تعالى قوم لوط والا عمل كرنے والے پر لعنت كرے، اللہ تعالى قوم لوط والا عمل كرنے والے پر لعنت كرے )

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے كسى ايك ہى حديث ميں زانى پر تين بار لعنت نہيں آئى، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كبيرہ گناہوں كے مرتكب افراد پر لعنت تو كى ہے، ليكن ايك بار سے زيادہ سے تجاوز نہيں كيا، اور لواطت كے متعلق تين بار تكرار كے ساتھ لعنت كى ہے.

اور پھر صحابہ كرام نے اس كے قتل پر عمل بھى كيا ہے، اور اس ميں كسى بھى دو صحابيوں كا اختلاف نہيں، بلكہ اسے قتل كرنے كے طريقہ كار ميں ان كا اختلاف پايا جاتا ہے، جسے بعض افراد نے اسے قتل كرنے ميں اختلاف سمجھا ہے، تو اسے صحابہ كرام كے مابين نزاعى مسئلہ بيان كيا ہے، حالانكہ يہ تو ان كے مابين مسئلہ اجماع ہے نہ كہ مسئلہ نزاع.

ان كا كہنا ہے: اور جو كوئى بھى اللہ سبحانہ وتعالى كے درج ذيل فرمان:

﴿ اور تم زنا كے قريب بھى نہ جاؤ، كيونكہ يہ فحاشى اور غضب كا باعث ہے، اور برا راستہ ہے ﴾.

اور لواطت كے متعلق فرمان بارى تعالى:

﴿ تو كيا تم ايسا فحش كام كرتے ہو جو تم سے قبل جہان والوں ميں سے كسى نے بھى نہيں كيا ﴾.

پر غور و فكر اور تامل كيا تو اس كے سامنے ان دونوں كے مابين فرق واضح ہو جائيگا، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے زنا كو نكرہ ذكر كيا ہے، يعنى وہ فحش كاموں ميں سے ايك فحش كام ہے، اور اسے لواطت ميں معرفہ ذكر كيا ہے، جو فحاشى كے تمام معانى كو اپنے اندر جمع كرنے كا فائدہ دے رہا ہے، جيسے آپ كہيں كہ: زيد الرجل، اور نعم الرجل زيد.

يعنى: تم اس خصلت كا ارتكاب كر رہے ہو جس كى فحاشى ہر شخص كے ہاں مقرر ہے، جس ميں اس كى فحاشى اور كمال بيان كرنے كى كوئى ضرورت ہى نہيں رہتى، اس ليے كہ اسم كسى اور كى طرف منصرف نہيں ہو سكتا" .... انتہى

ديكھيں: الجواب الكافى ( 260 - 263 ).

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" لواطت كے بارہ ميں بعض علماء كرام كا قول ہے كہ اس كى حد زنا كى حد جيسى ہى ہے، اور اس كے علاوہ اور قول بھى كہا گيا ہے.

ليكن صحيح بات اور جس پر صحابہ كرام كا اتفاق ہے وہ يہ ہے كہ: اوپر اور نيچے والے دونوں كو ہى قتل كر ديا جائيگا، چاہے وہ شادى شدہ ہوں يا غير شادى شدہ، كيونكہ اہل سنن نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جسے بھى تم قوم لوط والا عمل كرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں كو قتل كر دو "

اور ابو داود نے كنوارے لواطت كرنے والے شخص كے متعلق ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:

" اسے رجم كيا جائيگا "

اور على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے بھى اس جيسى روايت بيان كى جاتى ہے، لواطت كرنے والے شخص كو قتل كرنے ميں صحابہ كرام كے مابين كوئى اختلاف نہيں، ليكن اسے قتل كرنے كے كئى ايك طريقے بيان كيے ہيں.

چنانچہ ابو بكر صديق رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا جاتا ہے كہ انہوں نے اسے جلانے كا حكم ديا تھا، اور ان كے علاوہ دوسروں سے قتل كرنے كا بيان كيا جاتا ہے.

اور بعض سے بيان كيا جاتا ہے كہ: اس پر ديوار گرا دى جائيگى حتى كہ وہ ہلاك ہو جائے.

اور ايك قول يہ بھى ہے كہ: انہيں گندى اور بدبودار جگہ پر قيد كيا جائيگا حتى كہ وہ مر جائيں.

اور بعض كہتے ہيں:

اسے بستى ميں سب سے اونچى ديوار پر چڑھا كر اسے نيچے گرا كر اس پر پتھر برسائے جائينگے، جس طرح اللہ تعالى نے قوم لوط كے ساتھ كيا تھا، ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے ايك روايت يہى ہے، اور دوسرى روايت يہ ہے كہ اسے رجم كيا جائيگا، اكثر سلف كا مسلك يہى ہے.

ان كا كہنا ہے: كيونكہ اللہ تعالى نے قوم لوط كو رجم كيا تھا، اور قوم لوط سے مشابہت ميں زانى كو رجم كرنا مشروع كيا ہے، تو اس ليے دونوں كو ہى رجم كيا جائيگا، چاہے وہ آزاد ہوں يا غلام، يا ان ميں سے ايك غلام اور دوسرا آزاد ہو، جب دونوں بالغ ہوں تو انہيں رجم كيا جائيگا، اوراگر ان ميں سے كوئى ايك نابالغ ہو تو اسے قتل سے كم سزا دى جائيگى، اور صرف بالغ كو ہى رجم كيا جائيگا " انتہى.

ماخوذ از: السياسۃ الشرعيۃ صفحہ ( 138 ).

دوم:

جس كے ساتھ لواطت كى جائے وہ بھى فاعل كى طرح ہى ہے، كيونكہ وہ دونوں فحش كام ميں شريك ہيں، تو اس ليے ان كى سزا قتل ہے جيسا كہ حديث ميں بھى وارد ہے، ليكن اس سے دو صورتيں مستثنى ہونگى:

پہلى صورت:

جسے زدكوب كر كے يا قتل وغيرہ كى دھمكى دے كر لواطت كرنے پر مجبور كيا گيا ہو، تو اس پر كوئى حد نہيں.

شرح منتھى الارادات ميں درج ہے:

" جس شخص كے ساتھ لواطت كى گئى ہے اگر وہ مكرہ ہو اور اسے قتل كر دينے دھمكى دے كر يا زدكوب كر كے مجبور كيا گيا ہو يا لواطت كرنے والا شخص اس پر غالب آ گيا ہو تو اس پر كوئى حد نہيں " انتہى بتصرف

ديكھيں: شرح منتھى الارادات ( 3 / 348 ).

دوسرى صورت:

جس كے ساتھ لواطت كى گئى ہے اگر وہ چھوٹا بچہ ہو ابھى بالغ نہيں ہوا تو اس پر كوئى حد نہيں، ليكن اسے تعزير لگائى جائيگى ادب سكھايا جائيگا جس سے اس عمل كو روكنے ميں مدد ملے، جيسا كہ شيخ الاسلام ابن تيميہ كى كلام ميں بيان ہو چكا ہے.

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ نے " المغنى " ميں نقل كيا ہے كہ:

" مجنون اور بچہ جو بالغ نہيں ہوا اسے حد نہ لگانے ميں علماء كرام كا كوئى اختلاف نہيں "

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 9 / 62 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments