83165: انسان کب بے نماز شمار ہوتا ہے؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟


اگر کوئی شخص بالکل نماز نہیں پڑھتا تو کیا اسے غیر مسلم شمار کیا جائے گا؟ اور اگر کوئی شخص عید الفطر ، عید الاضحی اور بسا اوقات جمعہ پڑھتا ہے اسی طرح کبھی کبھی پانچوں نمازوں میں سے کوئی ایک نماز بھی پڑھ لیتا ہے تو کیا اس کا حکم بھی ایسے بے نمازی شخص والا ہوگا جو کبھی بھی نماز نہیں پڑھتا؟ اور پھر اسے بھی غیر مسلم شمار کیا جائے گا؟ نیز یہ جملہ کہ "وہ بالکل بے نمازی ہے"اس کی تفصیل کیسے بیان کریں گے؟

Published Date: 2017-02-17

الحمد للہ:

اول:

جو شخص مطلق طور پر  نماز نہیں پڑھتا تو وہ کافر ہے، چاہے وہ سستی کی وجہ سے نماز نہ پڑھے یا فرضیتِ نماز کا انکار کرتے ہوئے نہ پڑھے، علمائے کرام کے دو موقفوں میں سے یہی صحیح ترین موقف ہے، اس کی بہت سی دلیلیں ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر پہلے سوال نمبر: (5208) میں گزر چکا ہے۔

دوم:

اگر کوئی شخص مطلق طور پر نماز تو نہیں چھوڑ رہا بلکہ یہ معاملہ ہے کہ کبھی پڑھ لی اور کبھی  چھوڑ دی تو ایسے شخص کو نماز چھوڑنے کی وجہ سے کافر قرار دینے میں اختلاف ہے۔

کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دے اور وقت ختم ہونے تک ادا نہ کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص سورج طلوع ہونے تک فجر کی نماز نہیں پڑھتا تو وہ کافر ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص ظہر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ادا نہیں کرتا تو وہ کافر ہے؛ کیونکہ ظہر کی نماز عصر کی نماز کے ساتھ جمع کی جاسکتی ہے، لہذا جب عذر ہو تو دونوں نمازوں کا وقت ایک ہو سکتا ہے، اسی طرح مغرب کی نماز کا وقت ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص نماز مغرب اتنی دیر تک ادا نہیں کرتا کہ عشاء کی نماز کا وقت بھی نکل جاتا ہے تو وہ شخص بھی کافر ہے۔

اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ایسا شخص کافر نہیں ہے، اسے اسی وقت کافر کہا جائے گا جب وہ مطلق طور پر ساری نمازیں نہ پڑھے، یعنی نماز پڑھنا ہی چھوڑ دے۔

جیسے کہ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"میں نے اسحاق رحمہ اللہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، یہی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج تک اہل علم کی رہی ہے کہ اگر کوئی شخص نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر ہے"
وقت ختم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ ظہر کو غروب شمس تک مؤخر کر دے اور مغرب کو طلوعِ فجر تک مؤخر کر دے۔
ہم نے اس انداز سے نماز کا آخری وقت اس لیے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ، مزدلفہ اور سفر وغیرہ میں نمازوں کو جمع کیا ہے اس طور پر کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا فرمایا، لہذا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا کیا اور بسا اوقات دوسری نماز کو پہلی نماز کے وقت میں ادا کیا  تو اس سے معلوم ہوا کہ عذر کی حالت میں دو نمازوں کا مجموعی وقت  ہر نماز  کا وقت ہے، جیسے کہ حائضہ عورت اگر سورج غروب ہونے سے پہلے پاک ہو جائے تو اسے ظہر اور عصر دونوں نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اگر رات کے آخری حصے تک پاک ہو جائے تو مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے" انتہی
"تعظیم قدر الصلاة " (2/929)

اسی طرح امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ہمیں [درج ذیل جلیل القدر شخصیات سے ]بیان کیا گیا ہے کہ : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، معاذ بن جبل ، ابن ‏مسعود ، اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت رضی الله عنہم  سے ،‎‏ اور اسی طرح ابن مبارک ، احمد بن حنبل ، ‏اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ جمیعاً ، اسی طرح صحابہ کرام میں سے پورے سترہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر یاد ہوتے ہوئے بھی کوئی ایک نماز اتنی دیر تک ادا نہیں کرتا کہ اس کا وقت ہی ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر اور مرتد ہے، یہی موقف عبد الله بن ماجشون امام مالک کے شاگرد کا ہے اور اسی موقف کے قائل ہیں: عبد الملک  بن حبيب اندلسی اور دیگر فقہائے کرام" انتہی
"الفصل في الملل والأهواء والنحل" (3/128)

اسی طرح ابن حزم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:
"سیدنا عمر، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے کہ جو شخص نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر  اور مرتد ہے " انتہی
"المحلى " (2/15 ‏)

اسی موقف کے مطابق دائمی فتوی کمیٹی نے شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کی صدارت میں فتوی جاری کیا: دیکھیں: "فتاوی دائمی فتوی کمیٹی" (6/40،50)

البتہ ان علمائے کرام میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا نام آتا ہے جو دائمی اور مطلق طور پر نماز چھوڑنے  کی وجہ سے ہی تارکِ نماز کو کافر کہتے ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ: ایک شخص کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو کیا وہ کافر ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"میری رائے ہے کہ کافر وہی شخص ہو گا جو مطلق طور پر نماز نہ پڑھے یعنی بالکل نماز چھوڑ دے، لیکن جو شخص کبھی پڑھ لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کافر نہیں ہو گا، حدیث یہ ہے:" ( بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة ) [آدمی اور شرک  و کفر کے درمیان  نماز چھوڑنا ہی قدر امتیاز ہے] اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " ترك صلاة " [یعنی صلاۃ کا لفظ نکرہ] نہیں  بولا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ترك الصلاة " [یعنی: الف لام کے ساتھ معرفہ  بولا ہے]  اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص مطلق طور پر نمازیں چھوڑ دے اور کبھی بھی نماز نہ پڑھے۔

اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ: (العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها ـ أي الصلاة ـ فقد كفر)[ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا] تو اس بنا پر ہم کہیں گے کہ: جو شخص کبھی نماز پڑھ لیتا ہے اور کبھی نہیں پڑھتا تو وہ کافر نہیں ہے" انتہی
ماخوذ از: "مجموع فتاوى ابن عثیمین" (12/55)

لیکن اُن سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو صرف جمعہ کی نماز پڑھتا ہے تو اس کے بارے میں جواب دیا کہ:

شیخ ابن عثیمین: وہ صرف جمعہ کی نماز کیوں پڑھتا ہے؟

سائل: اس کی عادت بن چکی ہے۔

شیخ: عادت بن چکی ہے، تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ اس کی نماز عبادت ہے! یہ تو جمعہ کی نماز بطور عادت پڑھتا ہے کہ نہا دھو کر کپڑے پہنے خوشبو لگائے اور مسجد آ جائے، میں اگرچہ یہ کہتا ہوں کہ صرف وہی شخص کافر ہے جو مکمل طور پر نماز چھوڑ دے لیکن مجھے ایسے شخص کے مسلمان ہونے میں شک ہے؛ کیونکہ اس نے جمعہ کو بننے اور سنورنے کا دن بنایا ہوا ہے، وہ بن ٹھن کر خوشبو لگا کر صرف لوگوں سے ملنے کیلیے جاتا ہے، مجھے اس کے مسلمان ہونے میں شک ہے، لیکن ہمارے شیخ محترم عبد العزیز  کی رائے کے مطابق وہ شخص کافر ہے اور اس کا معاملہ ختم ہو چکا ہے" انتہی
"لقاء الباب المفتوح"

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب
Create Comments