ar

96273: كيا قہرى وسوسہ عيب شمار ہوتا ہے كہ منگيتر كے علم ميں لايا جائے


اگر كوئى لڑكى قہرى وسوسہ يا دوسرے وسوسوں كى بيمارى ميں مبتلا ہو اور اس كى كسى كو خبر نہ دے صرف اللہ ہى جانتا ہے، اور وہ اس بيمارى كو ختم كرنے كوشش ميں ہے آيا اس كے ليے كوئى رشتہ آئے تو كيا اسے اس بيمارى كے بارہ ميں بتانا ضرورى ہے، خاص كر جب اس كا كسى دوسرے كو بتانے كى صورت ميں يہ بيمارى اور زيادہ ہو جائے، جناب مولانا صاحب آپ كيا نصيحت كرتے ہيں، اور يہ بھى بتائيں كہ وہ كونسے عيب شمار ہوتے ہيں جن كا بتانا ضرورى ہے ؟

Published Date: 2012-05-01

الحمد للہ:

اول:

قہرى يا كوئى وسوسہ كى بيمارى كا علاج اللہ كا ذكر اور اللہ سبحانہ و تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى  كے ساتھ ساتھ وسوسہ سے غافل رہنا اور اس كى طرف عدم التفات ہے، بلكہ بعض حالات ميں تو نفسياتى ڈاكٹر سے بھى رابطہ كرنا پڑتا ہے.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 39684 ) اور ( 1028 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

دوم:

فقھاء كرام كا راجح قول يہى ہے كہ ہر چيز جس سے نكاح كا مقصد فوت ہو جائے اور خاوند اور بيوى ميں نفرت پيدا كرنے كا باعث ہو تو وہ عيب شمار ہوگى، اس كا نكاح سے پہلے ايك دوسرے كے علم ميں لانا واجب ہے، اور اگر اسے چھپايا گيا تو علم ہونےكى صورت ميں نكاح فسخ كرنا ثابت ہو جائيگا.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہر وہ عيب جس سے خاوند اور بيوى ميں نفرت پيدا ہو اور نكاح كا مقصد محبت و مودت حاصل نہ ہو تو اس سے اختيار واجب ہو جاتا ہے " انتہى

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 166 ).

اور ايك مقام پركہتے ہيں:

" جو شخص صحابہ كرام اور سلف كے فتاوى پر غور كريگا اسے يہ علم ہو جائيگا كہ انہوں رد كرنے كے ليے ايك عيب كو خاص نہيں كيا "

اور ايك مقام پر كہتے ہيں:

" جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بائع يعنى فروخت كرنے والے كو اپنے سامان ميں موجود عيب چھپانے سے منع كيا اور اسے حرام قرار ديا، اور جسے اس كا علم ہو جائے تو اس كے ليے خريدار سے چھپانا حرام كيا تو پھر نكاح كے عيوب كے بارہ ميں كيا خيال ہے.

حالانكہ جب فاطمہ بنت قيس رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے معاويہ يا ابو جہم سے نكاح كے بارہ ميں مشورہ كرنےآئي تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" معاويہ غريب و مسكين ہے اس كے پاس مال نہيںن اور ابو جھم اپنى لاٹھى ہى اپنےكندھے سے نہيں ركھتا "

تو اس سے يہ معلوم ہوا كہ نكاح ميں عيب كو واضح كرنا اور اسے بتانا زيادہ اولى اور واجب ہے، تو پھر اس عيب كے ہونے كى صورت ميں اسے چھپانا اور دھوكہ دينا كيسا ہو گا، اور اس عيب سے شديد نفرت ہونے كے باوجود اسے اس كى گردن كا طوق بنا ديا جائے يہ كيسے ہو سكتا ہے " انتہى

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 168 ).

اس بنا پر جو عورت وسوسہ كى بيمارى كا شكار ہو اس كى حالت كو ديكھا جائيگا، اگر تو يہ وسوسہ اسے خاوند كى مصحلتوں كو پورا كرنے ميں مانع ہو، اور اس كى موجودگى ميں خاوند اس كے ساتھ رہنے سے نفرت كرے تو پھر خاوند كو نكاح سے قبل اس كى خبر دينا لازم ہے.

اس كے ليے چھپانے اور دھوكہ دينے سے بہتر ہے كہ وہ اس كو واضح كردے، كيونكہ چھپانےكى صورت ميں ہو سكتا ہے خاوند بعد ميں اسے چھوڑے يا پھر عيب چھپانےكى بنا پر بيوى سے بغض ركھے.

اور اگر يہ وسوسہ خاوند كے ساتھ ازدواجى زندگى ميں اثرانداز نہ ہوتا ہو، اور اس سےنفرت پيدا نہ كرتا ہو تو پھر يہ عيب شمار نہيں ہوگا، اور اپنى حالت كا بتانا لازم نہيں.

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments