97204: خواتین کیلئے احرام کی حالت میں افغانی نقاب پہننے کا حکم


خواتین کیلئے احرام کی حالت میں افغانی نقاب پہننے کا کیا حکم ہے؟ یہ نقاب مکمل طور پر چہرے کو ڈھک دیتا ہے، اس میں صرف آنکھوں کی طرف باریک کپڑے کا استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ باریک کپڑا مستقل طور پر لگا رہتا ہے جسے کھولا نہیں جاسکتا ۔

Published Date: 2013-10-17

الحمد للہ:

خواتین کو احرام کی حالت میں نقاب یا برقعہ پہننے سے منع کیا گیا ہے؛ جیسے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے (1741) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (احرام کی حالت میں عورت نقاب مت پہنے اور نہ ہی دستانے زیب تن کرے)

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ابن منذر نے کہا: سعد، ابن عمر، ابن عباس، اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے برقعہ کے بارے میں کراہت ثابت ہے، اور ہم کسی ایسے اہل علم کو نہیں جانتے جنہوں نے انکی مخالفت کی ہو۔۔۔۔۔ لیکن اگر قریب سے مردوں کے گزرنے کی وجہ سے چہرہ ڈھانپنے کی ضرورت پڑے تو اپنے سر کی جانب سے اپنے چہرے پر کپڑا لٹکا لے، یہ بات عثمان اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، اور اس بات کے قائلین میں عطاء، مالک، ثوری، شافعی، اسحاق، محمد بن الحسن، شامل ہیں، اور ہمیں اس بارے میں کسی اختلاف کا بھی علم نہیں ہے، اس لئے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: "قافلے ہمارے قریب سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام میں تھیں، چنانچہ جب وہ ہمارے قریب آتے تو ہم اپنی چادروں کو سر سے چہرے پر لٹکا لیتی تھیں، اور جب وہ گزر جاتے تو پھر سے ہم چہرہ کھول دیتی تھیں"اسے ابو داود نے روایت کیا ہے"

"المغني" (3/154)

عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "حجاب المرأة المسلمة" میں صحیح قرار دیا ہے۔

مذکورہ بالا دلائل کی بنا پر احرام والی خواتین اپنے چہرے کو ڈھکنے کیلئے سر سے کپڑا لٹکائیں گیں، اور نقاب یا برقعہ کا استعمال نہیں کریں گی، اور نہ ہی افغانی نقاب استعمال کریں گی، اس لئے کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ وہ بھی برقع کی طرح ہوتا ہے، اس لئے خوتین کیلئے احرام کی حالت میں اسے پہننا درست نہیں ہے۔

واللہ اعلم .

اسلام سوال و جواب
Create Comments