ar

97229: دخول اور خلوت سے قبل طلاق كى صورت ميں نصف مہر كى ادائيگى


ميرى منگنى ہوئى ( عقد نكاح مولوى كے پاس عورت كے ولى اور دو گواہوں كى موجودگى ميں ہوا ) اور يہ چند ماہ تك رہى اس عرصہ ميں نے بيوى سے دخول نہيں كيا ليكن كئى ايك بار اس سے خلوت ہوتى رہى ہے، كيونكہ وہ ميرى شرعى بيوى تھى، اسى اثناء ميں ہمارے درميان اختلافات پيدا ہوگئے حتى كہ طلاق كا فيصلہ ہوا.
اور لڑكى كے والد سے اس مسئلہ ميں بات چيت ہوئى تو ميں نے پورى صراحت كے ساتھ كہا ميں عليحدگى چاہتا ہوں اور اس كے متعلق جو بھى مالى مبلغ ادا كرنا پڑے ميں اس كے ليے بھى تيار ہوں، اس كا جواب تھا كہ ہم آپ سے كچھ نہيں چاہتے اور يہ كلام كئى ايك بار كى گئى يعنى ميرى اور لڑكى كے والد كى جانب سے تين بار ٹيلى فون پر يہى بات ہوئى اور ميں نے اس كے والد كو كہا كہ آپ كى بيٹى كو طلاق طلاق طلاق ہے، ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا ميرى يہ طلاق صحيح ہے اور ميں كوئى رجوع نہيں ہو سكتا ؟ طلاق كے ايك ہفتہ بعد لڑكى كى والدہ نے مجھ سے نصف مہر كا مطالبہ كيا جيسا
كہ قرآن مجيد كى سورۃ البقرۃ ميں آيا ہے كہ جب بيوى كو چھويا نہ جائے تو اسے نصف مہر ديا جائيگا ( جب اس آيت كے متعلق دريافت كيا گيا تو بتايا گيا كہ اس سے مراد دخول ہے )
اور جب ميں نے اسے بتايا كہ لڑكى كے والد نے تو مہر چھوڑ ديا ہے تو وہ كہنے لگى: اس نے يہ بات صدمہ كى حالت ميں كى تھى اور اسے بيٹى كى طلاق كى خبر ہولناك لگى تھى، يہ علم ميں رہے كہ جيسا ميں اوپر بيان كر چكا ہوں كہ دو دنوں ميں تين بار يہ بات ہوئى تھى اور والد كا جواب يہى تھا كہ ہم كچھ نہيں چاہتے، اور نہ ہى ہم دونوں ( ميں اور لڑكى كا والد ) غصہ كى حالت ميں تھے جس كى بنا پر ايسى بات كہى جائے جوسمجھ نہ آئے، تو كيا نصف مہر دينا ہو گا يا كہ باپ نے مہر چھوڑ ديا ہے اس كى وجہ سے ساقط ہو جائيگا ؟

Published Date: 2009-10-25

الحمد للہ:

اول:

جب عورت كو دخول سے قبل طلاق دے دى جائے تو اسے نصف مہر كى ادائيگى كرنا ہو گى كيونكہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے:

﴿ اور اگر تم عورتوں كو چھونے سے قبل ہى طلاق دے دو اور تم نے ان كا مہر بھى مقرر كر ديا ہو تو مقررہ مہر كا آدھا مہر دے دو، يہ اور بات ہے كہ وہ خود معاف كر ديں، يا وہ شخص معاف كر دے جس كے ہاتھ ميں نكاح كى گرہ ہے، تمہارا معاف كر دينا تقوى كے بہت زيادہ نزديك ہے، اور آپس كى فضيلت اور بزرگى كو فراموش نہ كرو، يقينا اللہ تعالى تمہارے اعمال ديكھ رہا ہے ﴾البقرۃ ( 237 ).

فقھاء كے ہاں اس ميں اختلاف ہے كہ آيا خلوت كے بعد دخول كى طرح مكمل مہر ادا كيا جائيگا يا نہيں ؟

جمہور كے ہاں يہى ہے كہ كامل مہر واجب ہو جاتا ہے، چنانچہ جس نے بھى اپنى بيوى سے صحيح خلوت كر لى، يعنى وہ بغير كسى بڑے يا چھوٹے يا امتياز كرنے والے بچے كے بغير صرف دونوں ہى خلوت كر ليں اور پھر عورت كو طلاق ہو جائے تو اسے پورا مہر دينا ہو گا.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" مجمل يہ كہ جب مرد اپنى بيوى سے صحيح عقد نكاح كے بعد خلوت كر لے تو اس كا مہر دينا ہو گا اور وہ عدت بھى پورى كريگى چاہے اس نے اس سے جماع نہ بھى كيا ہو، خلفاء راشدين سے يہى مروى ہے...

امام احمد اور اثرم نے زرارۃ بن اوفى سے روايت كيا ہے كہ:

خلفاء راشدين نے يہ فيصلہ كيا: جس نے دروازہ بند كر ليا يا پردہ گرا كر اندر چلا گيا تو اس پر پورا مہر واجب ہو گا، اور عدت بھى واجب ہو گى.

اور اثرم نے احنف سے يہ بھى روايت كيا ہے كہ: عمر اور على اور سعيد بن مسيب اور زيد بن ثابت سب كے ہاں اس پر عدت ہو گى اور اسے پورا مہر ديا جائيگا، اور يہ معاملہ جات مشہور ہيں اور اس ميں ان كے دور ميں كسى نے بھى مخالفت نہيں كى تو اس طرح يہ اجماع ہوا " انتہى مختصرا.

ديكھيں: المغنى ( 7 / 191 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" امام احمد رحمہ اللہ سے ايك روايت ذكر كى جاتى ہے جو ايك قاعدہ اور اصول ہونى چاہيے وہ كہتے ہيں:

" كيونكہ اس نے عورت سے وہ كچھ حلال كر ليا جو كسى اور كے ليے حلال نہ تھا، اس ليے ان كا كہنا ہے: اگر مرد نے اس كو شہوت كے ساتھ چھوا يا اس كا كوئى حصہ جو خاوند كے علاوہ كوئى اور نہيں ديكھتا مثلا شرمگاہ تو وہ عورت پورے مہر كى مستحق ہو گى، كيونكہ اس نے وہ كچھ حلال كر ليا جو اس كے علاوہ كسى اور كے ليے حلال نہيں تھا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 293 ).

اس بنا پر اگر تو آپ نے بيوى سے وہ كچھ فائدہ حاصل كر ليا ہے تو اس كے ليے پورا مہر واجب ہو گا، اور اس كو عدت بھى پورى كرنا ہو گى.

دوم:

مطلقہ عورت كو حق حاصل ہے كہ وہ اگر بالغ اور عقلمند ہو تو اپنے مہر ميں سے كچھ حصہ معاف كر دے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ مگر يہ كہ وہ معاف كر ديں ﴾.

اور اسى طرح جس كے ہاتھ ميں نكاح كى گرہ ہے وہ بھى اسى طرح معاف كر سكتا ہے، اس ميں اختلاف ہے كہ كيا اس سے مراد خاوند ہے يا كہ عورت كا ولى ؟

ابو حنيفہ اور احمد اور شافعى كے نئے قول ميں اس سے خاوند مرا د ہے، چنانچہ اسے حق حاصل ہے كہ وہ نصف مہر معاف كر دے اور اسے مطلقہ عورت كے ليے چھوڑ دے.

اور امام مالك اور امام شافعى قديم قول ميں اس سے ولى مراد ليتے ہيں، چنانچہ اسے حق حاصل ہے كہ اپنى ولايت ميں عورت كا نصف مہر چھوڑ سكتا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اہل علم كا اختلاف ہے كہ نكاح كى گرہ كس كے ہاتھ ميں ہے امام احمد كا ظاہر مذہب يہ ہے كہ اس سے مراد خاوند ہے، اور امام مالك اور على اور ابن عباس رضى اللہ عنہ سے بھى يہى مروى ہے.. كيونكہ اللہ عزوجل كا فرمان ہے: ﴿ اور يہ كہ تم معاف كر دو يہ تقوى كے زيادہ قريب ہے ﴾.

اور وہ معافى جو تقوى كے زيادہ قريب ہے وہ خاوند اپنا حق معاف كر دے، رہا يہ كہ ولى عورت كا مال معاف كر دے يہ تقوى كے زيادہ قريب نہيں، اور اس ليے بھى كہ مہر تو بيوى كا مال ہے، اس ليے ولى نہ تو اسے ہبہ كرنے اور نہ ہى معاف كرنے كا مالك ہے جس طرح عورت كا دوسرا مال اور اس كے حقوق معاف نہيں كر سكتا، اور اسى طرح سارے ولى بھى " انتہى مختصرا

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 195 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" صحيح يہى ہے كہ اس سے مراد خاوند ہے اور وہى ہے جس كے ہاتھ ميں نكاح كى گرہ ہے، وہ جب چاہے اسے كھول سكتا ہے، اور معنى يہ ہو گا: مگر يہ كہ بيوياں معاف كر ديں يا خاوند معاف كر ديں، اور اگر خاوند معاف كر ديتا ہے تو سار بيوى كو مل جائيگا، اور اگر بيوى معاف كر ديتى ہے تو سارا خاوند كو مل جائيگا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 292 ).

اس بنا پر اگر آپ كى مطلقہ بيوى كے والد نے اگر بيوى كے مہر ميں سے اس كا حق اس كى رضا مندى سے ساقط كيا تو اس نے اپنا ساقط كر ديا ہے، لہذا اسے كچھ نہيں ملے گا، اور ساقط كرنے كے بعد اسے دوبارہ طلب كرنے كا كوئى حق نہيں.

ليكن اگر اس كے سقوط كا اگر بيوى كو علم نہ تھا اور نہ اس ميں اس كى رضامندى شامل تھى تو پھر اس سے اس كا حق ساقط نہيں ہو گا، چنانچہ آپ كو چاہيے كہ اسے مہر ادا كريں.

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments