جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

خلع پر متفق ہونے كے بعد خاوند كا رجوع كرنا

10140

تاریخ اشاعت : 15-05-2010

مشاہدات : 5730

سوال

اگر كوئى شخص اپنى بيوى كے ساتھ خلع كرنے پر متفق ہو جائے كہ وہ خاوند كو مہر واپس كر دے، ليكن مہر ادا كرنے سے قبل خاوند بيوى سے رجوع كرنا چاہے تو كيا اسے رجوع كا حق حاصل ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر تو خاوند نے اس كے ساتھ خلع كيا ہے، وہ اس طرح كہ ان دونوں كے مابين نكاح فسخ ہو گيا اور صرف معاوضہ يعنى مہر كى ادائيگى كرنا باقى ہے، تو اس صورت ميں اسے كوئى اختيار باقى نہيں چاہے اس نے ابھى اپنا مہر واپس نہيں ليا.

ليكن اگر وہ دونوں نكاح فسخ كيے بغير متفق ہوئے ہيں كہ جب وہ مہر واپس كر ديگى تو نكاح فسخ كر ديا جائيگا ت واس سے فسخ واقع نہيں ہوا، بلكہ اس ميں اس نے نكاح فسخ كرنے كا وعدہ ہى كيا ہے، اگر اس نے نكاح فسخ نہيں كيا تو اپنى نيت سے اور جو كام ابھى كيا ہى نہيں اس سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے.

اگرچہ وہ كہہ چكا ہے كہ اگر تم مجھے ميرا مہر واپس كر ديتى ہو تو ميں تم سے خلع كرتا ہوں يا نكاح فسخ كر ديتا ہوں تو حنابلہ كا مذہب يہ ہے كہ اس كو رجوع كا حق حاصل نہيں؟ اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كے ہاں يہ ہے كہ: اگر اس نے ابھى عوض نہيں ليا تو اسے رجوع كا حق حاصل ہے.

ليكن احتياط اسى ميں ہے كہ اگرچہ اس آخرى صورت ميں عادت بن چكى ہے اور وہ دونوں اتفاق كرنا چاہتے ہيں تو تجديد نكاح كر ليں تا كہ اختلاف سے نكلا جا سكے " اھـ شيخ عبد الرحمن السعدى كا فتوى.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 2 / 785 )

تاثرات بھیجیں