بدھ 14 رجب 1440 - 20 مارچ 2019
اردو

كيا حرام كھانا كھانے والے كى نماز قبول ہوتى ہے ؟

10191

تاریخ اشاعت : 30-06-2009

مشاہدات : 5715

سوال

كيا يہ صحيح ہے كہ اگر حرام كھانا كھايا جائے تو چاليس يوم تك نماز قبول نہيں ہوتى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اگر آپ نے حرام كھانا كھايا تو آپ دعاء رد ہونے كا سبب بنے، حديث قدسى ميں ہے كہ:

" اور اسے غذا ہى حرام كى دى گئى تو اس كى دعاء كہاں قبول ہو گى"

اور اس شخص كى دعاء قبول نہيں ہو گى، ليكن اس نماز جو كہ دعاء پر مشتمل ہے وہ قبول ہو گى، اس كا معنى يہ ہے كہ:

يعنى يہ نماز ادا ہو جائے گى، اور اس سے نماز كى ادائيگى كا مطالبہ ساقط ہو جائے گا، اور اسے نماز دوبارہ پڑھنے كا نہيں كہا جائے گا، اور حديث ميں شراب پينے والے كے متعلق آيا ہے كہ:

" اللہ تعالى اس كى نماز چاليس روز تك قبول نہيں كرتا"

واللہ اعلم .

ماخذ: الشيخ عبد الكريم الخضير

تاثرات بھیجیں