سوموار 1 ربیع الاول 1444 - 26 ستمبر 2022
اردو

بچوں كے ليے چمچ ميں آنكھ اور منہ كا خاكہ بنانا!

103029

تاریخ اشاعت : 10-06-2008

مشاہدات : 4990

سوال

غير ذى روح مثلا چمچ وغيرہ ميں ناك آنكھ اس دليل سے بنانا كہ حرمت كى علت يہاں نہيں ہے، اس ليے يہ اللہ تعالى كى مخلوق پيدا كرنے كى مشابہت نہيں ہے، اور نہ ہى يہ خدشہ ہے كہ اللہ تعالى كے علاوہ اسكى عبادت كى جانے لگے گى، سكول كى استانى كى رائے يہ ہے كہ بچوں پر اس كى تاثير محسوس كرتى ہے، اور يہ حرام تصوير كا بدل ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

انسان يا پرندے يا حيوان وغيرہ ذى روح كى تصاوير اور خاكہ بنانا جائز نہيں، كيونكہ اس ميں اللہ تعالى كى مخلوق پيدا كرنے ميں مقابلہ اور برابرى ہوتى ہے، جيسا كہ درج ذيل بخارى اور مسلم كى حديث ميں آيا ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميرے گھر آئے اور ميں نے طاقچہ پر ايك پردہ لٹكا ركھا تھا جس ميں مجسمے اور تصاوير تھيں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے پھاڑ ديا اور آپ كے چہرے كا رنگ بدل گيا اور فرمانے لگے:

اے عائشہ روز قيامت اللہ تعالى كے ہاں سب سے زيادہ عذاب ان لوگوں كو ہو گا جو اللہ تعالى كى مخلوق بنانے ميں مشابہت كرتے ہيں.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہتى ہيں: تو ہم نے اسے كاٹ كر اس كا ايك يا دو تكيے بنا ليے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5954 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2107 ).

السھوۃ: طاقچہ يا خانہ، اور يہ بھى كہا گيا ہے المارى.

القرام: باريك پردہ جس ميں نقش و نگار اور رنگ ہوں.

اور رہا چمچ ميں آنكھ اور منہ بنانا تو يہ حرام تصوير ميں داخل نہيں ہوتا؛ كيونكہ يہ مشابہت نہيں ہے، اور نہ ہى يہ كامل تصوير ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب