جمعرات 12 محرم 1446 - 18 جولائی 2024
اردو

تعویذ کے احکامات، اور کیا تعویذ سے نظر بد اور حسد سے بچاؤ ممکن ہے؟

سوال

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا تعویذ لٹکانا جائز ہے؟ میں نے کتاب التوحید اور بلال فلپس کی کتابیں پڑھی ہیں، لیکن مؤطا کی کچھ احادیث میں اس کی اجازت ملتی ہے، اسی طرح کتاب التوحید میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کچھ سلف صالحین نے اس کی اجازت دی ہے، اور یہ مؤطا کی 50 ویں جلد میں 4، 11 اور 14 نمبر کے تحت آئی ہیں، مجھے امید ہے کہ آپ اس کا جواب دیں گے اور بتلائیں گے کہ یہ احادیث صحیح ہیں ؟ نیز اس موضوع سے متعلق میری مزید رہنمائی بھی کریں، آپ کا بہت شکریہ۔

جواب کا خلاصہ

علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نظر بد کے علاج کے لیے غیر قرآنی تعویذ حرام ہے، لیکن اگر قرآنی آیات پر مشتمل ہو تو اس کے بارے میں اختلاف ہے، چنانچہ کچھ اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے جبکہ کچھ نے منع کیا ہے، تاہم ممانعت کا موقف احادیث کے عموم اور سد ذرائع کے طور پر زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔

الحمد للہ.

اول:

تعویذ لٹکانے کے بارے میں وارد شدہ احادیث

سائل نے جن احادیث کی صحت کے بارے میں جاننے کے لیے سوال پوچھا ہے ہمیں وہ احادیث مل نہیں سکیں؛ کیونکہ سائل کی بتلائی گئی احادیث تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی؛ کیونکہ انہوں نے بتلایا ہے کہ یہ مؤطا کی 50 ویں جلد میں ہے!! حالانکہ مؤطا صرف ایک ہی جلد میں ہے۔

تاہم تعویذ لٹکانے کے حوالے سے ہم ذیل میں دستیاب احادیث بیان کریں گے ، اور ان شاء اللہ یہ بھی بتلائیں گے کہ علمائے کرام نے ان احادیث پر کیا حکم لگایا ہے، ممکن ہے کہ سائل کی مطلوبہ حدیث بھی انہی میں شامل ہو:

  • سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: (نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم دس چیزوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے: (مردوں کا) خلوق لگانا، سفید بالوں کو سیاہ کرنا، تہ بند(ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا، (مردوں کے لیے) سونے کی انگوٹھی پہننا ، شطرنج کھیلنا، نامناسب مقام پر عورت کا اظہار زینت کرنا، معوذات وغیرہ کے علاوہ دم کرنا، تعویذ لٹکانا، منی کو اس کی جگہ سے عزل کرتے ہوئے باہر خارج کرنا، اور چھوٹے بچے میں خرابی ڈالنا ۔ لیکن آپ اس ( آخری کام) کو حرام نہیں فرماتے تھے۔) اس حدیث کو نسائی: (50880) اور ابو داود (4222)نے روایت کیا ہے ۔

خلوق: زرد رنگت کی حامل خوشبو ۔

منی کو اس کی جگہ سے عزل کرتے ہوئے باہر خارج کرنا: یعنی مطلب یہ ہے کہ انزال ہوتے وقت آلہ تناسل باہر نکال کر منی خارج کرنا۔

چھوٹے بچے میں خرابی ڈالنا: یعنی دودھ پلانے والی عورت سے جماع کرنا؛ کیونکہ دودھ پلانے کی مدت میں اگر دوبارہ حمل ٹھہر گیا تو دودھ خراب ہو جائے گا اور بچہ دودھ نہیں پی سکے گا، یعنی دودھ پلانے والی بیوی سے ہمبستری کرنے کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام نہیں کہا، بلکہ اچھا نہیں سمجھا۔

اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "ضعیف سنن نسائی" (3075) میں ضعیف قرار دیا ہے۔

  • سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: (منکے اور میاں بیوی میں محبت پیدا کرنے والے تعویذ شرک ہیں ۔ ) ان کی اہلیہ کہتی ہیں اس پر میں نے کہا: آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! میری آنکھ درد کی وجہ سے گویا نکلی جاتی تھی تو میں فلاں یہودی کے پاس جاتی اور وہ مجھے دم کرتا تھا ۔ جب وہ دم کرتا تو میرا درد رک جاتا تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : "یہ شیطان کی کارستانی ہوتی تھی ، وہ تیری آنکھ میں اپنے ہاتھ کی انگلی مارتا تھا ‘ تو جب وہ یہودی دم کرتا تو شیطان باز آ جاتا تھا ۔ حالانکہ تجھے یہی کچھ کہنا کافی تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دعا کیا کرتے تھے: أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسَ ، اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِيْ ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ترجمہ: اے لوگوں کے رب ! بیماری دور کر دے ، شفا عنایت فرما تو ہی شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے سوا کہیں کوئی شفا نہیں ، ایسی شفا عنایت فرما جو کوئی بیماری باقی نہ رہنے دے ۔" اس حدیث کو ابو داود: (3883) اور ابن ماجہ: (3530) نے روایت کیا ہے۔

اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "السلسلة الصحيحة" (331) اور (2972) میں صحیح قرار دیا ہے۔

  • عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: (جو تعویذ لٹکائے تو اللہ اس کی مراد پوری نہ کرے، اور جو گھونگا لٹکائے اس کے خدشات دور نہ ہوں۔) اس کو امام احمد: (16951) نے روایت کیا ہے۔

یہ حدیث البانی رحمہ اللہ کے مطابق سلسلہ صحیحہ: (492) میں صحیح ہے۔

دوم:

تمائم یعنی تعویذ وغیرہ لٹکانے کا حکم

عربی زبان میں لفظ { تمائم} تمیمہ کی جمع ہے، اور یہ ہر ایسی ہڈی، منکے اور تحریر وغیرہ پر بولا جاتا ہے جو مشکل کشائی، نظر بد سے بچاؤ اور حاجت روائی کی غرض سے بچوں اور بڑوں کے گلوں میں لٹکایا جائے، یا گھروں اور گاڑیوں میں رکھا جائے۔

ذیل میں علمائے کرام کی تعویذوں کی مختلف اقسام کے بارے میں گفتگو اور حکم ذکر کرتے ہیں، اس میں مفید اور اچھی چیزیں ہیں:

  • الشیخ سلیمان بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں:

ذہن نشین کر لیں کہ صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد آنے والے علمائے کرام کا قرآنی آیات اور اللہ تعالی کے اسما و صفات پر مشتمل تعویذ پہننے کے جواز میں اختلاف ہے:

ایک گروہ کا موقف یہ ہے کہ: یہ جائز ہے، اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما وغیرہ کا موقف ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے، نیز ابو جعفر باقر اور امام احمد کی ایک روایت کے مطابق ان کا بھی یہی موقف ہے، اور انہوں نے تعویذوں کو شرک قرار دینے والی احادیث کو شرکیہ تعویذوں کے بارے میں خاص کیا ہے، چنانچہ ان کے ہاں جن تعویذوں میں قرآن اور اللہ تعالی کے اسما و صفات ہیں تو ایسے تعویذ قرآنی اور اسما و صفات پر مشتمل دم کی طرح جائز ہیں۔

میں [سلیمان بن عبد الوہاب] کہتا ہوں کہ: یہی موقف ابن قیم رحمہ اللہ کا ہے۔

جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہہ: یہ جائز نہیں ہے، یہ سیدنا ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا موقف ہے ، نیز یہی موقف سیدنا حذیفہ، عقبہ بن عامر، اور ابن عکیم رضی اللہ عنہم کے موقف سے ظاہر ہوتا ہے، اسی موقف کے قائلین میں تابعین کرام کی ایک بڑی جماعت ہے، جن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد بھی شامل ہیں، اسی طرح امام احمد سے منقول دوسری روایت بھی اسی موقف کے مطابق ہے جسے ان کے متعدد شاگردوں نے اپنایا ہے، بلکہ متاخر حنبلی فقہائے کرام نے حتمی طور پر اسی موقف کو اختیار کیا ہے، ان کی دلیل کسی بھی تعویذ کو شرک کہنے والی احادیث ہیں؛ کیونکہ ان احادیث میں عام تعویذ کا ذکر ہے ، حدیث مبارکہ نے قرآنی یا غیر قرآنی تعویذ میں فرق نہیں کیا، جبکہ دم کے بارے میں حدیث مبارکہ میں واضح تفریق کی گئی ہے ، نیز اس موقف کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس حدیث کے راوی صحابہ کرام نے اس حدیث سے کیا سمجھا ہے؟ وہ یہی ہے کہ ہر قسم کا تعویذ منع ہے جیسے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا موقف پہلے گزر چکا ہے۔

سنن ابو داود میں عیسی بن حمزہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا تو انہیں سرخی کی شکایت تھی، تو میں نے انہیں کہا کہ آپ کوئی تعویذ کیوں نہیں لٹکا لیتے؟ تو عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کام سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو کوئی [تعویذ جیسی] چیز لٹکاتا ہے اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔۔۔)

اگر علمائے کرام نے قرآنی تعویذوں اور اللہ تعالی کے اسما و صفات پر مشتمل تمائم کے متعلق جواز اور عدم جواز پر اختلاف کیا ہے تو صحابہ و تابعین کے دور کے بعد جب شیاطین وغیرہ کے ناموں پر مشتمل تعویذ پہننے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، بلکہ شیطانوں سے ہی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، شیطانوں کی پناہ حاصل کر رہے ہیں، ان کے نام سے جانور ذبح کر رہے ہیں، انہی سے اپنی حاجات اور منتیں مان رہے ہیں جو کہ صراحتاً اور خالصتاً شرک ہے، اور لوگوں کی اکثریت اس میں مبتلا ہے، وہی بچا ہے جسے اللہ بچائے ، تو ایسے میں کیا ہونا چاہیے؟ آپ غور کریں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جو چیزیں ذکر کی ہیں، اور پھر صحابہ کرام اور تابعین عظام نے جو عملی شکل اختیار کی اور پھر ان کے بعد علمائے کرام نے اس حوالے سے کیا کچھ ذکر کیا ہے وہ آپ اس کتاب کی فہرست میں دیکھیں، اور پھر آج کل جو کچھ ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں تو آپ کو واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دین کس قدر اجنبی ہو چکا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں محفوظ فرمائے۔"
"تيسير العزيز الحميد" (ص 136-138)

  • الشیخ حافظ حکمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اگر یہ تعویذ قرآنی آیات پر مشتمل ہیں، یا اسی طرح صحیح احادیث میں ثابت دعائیں ان میں لکھی گئی ہیں، تو تب بھی صحابہ اور تابعین کے دور میں ہی ان کے جواز اور عدم جواز پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا، اور یہ اختلاف ان کے بعد بھی رہا، چنانچہ کچھ سلف صالحین نے اس کی اجازت دی ، یہ موقف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابو جعفر محمد بن علی اور دیگر سلف صالحین سے منقول ہے۔

جبکہ کچھ سلف صالحین نے اس سے منع کیا اور اسے جائز نہیں سمجھا، ان میں سیدنا عبد اللہ بن عکیم ، عبد اللہ بن عمرو، عقبہ بن عامر، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین اور پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگر جیسے کہ اسود، علقمہ اور ان کے بعد ابراہیم نخعی اور دیگر تابعین عظام رحمہم اللہ اجمعین شامل ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ غلط نظریات کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بطور سد ذرائع عموماً اور ہمارے زمانے میں خصوصاً یہی موقف ہونا چاہیے کہ قرآنی تعویذ بھی منع ہو؛ کیونکہ جن ادوار اور اوقات میں قرآنی تعویذ کو منع قرار دینے والے صحابہ کرام اور تابعین عظام کی اکثریت تھی ان صدیوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا تھا، جبکہ آج کل فتنوں اور گمراہیوں کی بھر مار ہے تو اس وقت قرآنی تعویذ سے ممانعت کے موقف کی ضرورت زیادہ ہے؛ کیونکہ اسی طرح کی رخصتوں کی بدولت ہی لوگ خالصتاً حرام کاموں تک پہنچ چکے ہیں انہوں نے ایسی رخصتوں کو ہی حرام کام تک پہنچنے کا حیلہ اور وسیلہ بنا لیا ہے۔

مثلاً: یہی لوگ اپنے تعویذوں میں کوئی ایک آدھ آیت یا بسم اللہ وغیرہ لکھ دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد شیطانی طلسم یا کوئی ایسی چیز لکھتے ہیں جسے عام آدمی کے لیے پڑھنا بھی ممکن نہیں ہوتا، صرف وہی پڑھ سکتا ہے جو ان کا ہم جولی ہو، پھر یہ لوگ عوام الناس کا تعلق اللہ تعالی سے توڑ کر اپنے لکھے ہوئے تعویذوں سے جوڑتے ہیں ، بلکہ کچھ تو عوام الناس کو خوامخواہ میں ڈراتے ہیں، انہیں کچھ ہوا بھی نہیں ہوتا لیکن پھر بھی جس کسی کا مال ہتھیانا مقصود ہو تو اس کے پاس آ کر جانتے بوجھتے ہوئے ورغلاتے ہیں کہ : تمہارے گھر میں یا تمہارے کاروبار میں یا تمہاری جان میں فلاں فلاں مسائل ہیں۔ یا اسے کہتے ہیں کہ: تمہیں تو جنوں کا سایہ ہے! پھر کچھ ایسی ابتدائی چیزیں جو شیطانی وسوسوں پر مشتمل ہوتی ہیں اسے بتلاتا ہے تا کہ مخاطب کو یہ یقین ہو نے لگے کہ واقعی یہ میرے بارے میں صحیح تشخیص کر رہا ہے، اور میرا بہت ہی خیر خواہ ہے، یہ میرے فائدے کی بات کر رہا ہے، تو جب اس جاہل مخاطب کا دل اس کی باتوں میں آ کر خوف سے بھر جاتا ہے تو اللہ تعالی سے رجوع کرنے کی بجائے اسی جھوٹے ، دجال اور مکار شخص کے پیچھے لگ جاتا ہے، اور پھر اللہ تعالی سے اصلاح احوال کا مطالبہ کرنے کی بجائے اسی پر اعتماد کر بیٹھتا ہے اور کہنے لگتا ہے: آپ نے جو تشخیص کی ہے اس کا حل کیا ہے؟ اور اس متوقع تکلیف سے بچنے کا کیا ذریعہ ہو سکتا ہے؟ یعنی اس سے ایسے پوچھ رہا ہوتا ہے جیسے کوئی نفع یا نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے! اب آ کر یہ شخص اس دجال کے چنگل میں پھنس جاتا ہے اور یہ اسے پھانسنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اب یہ اسے جو بھی کہے گا وہ ویسے ہی کرتا چلا جائے گا، تو یہ کہتا ہے کہ: اگر تم مجھے فلاں فلاں چیز دو تو میں تمہارے لیے ایسا لمبا چوڑا تعویذ لکھوں گا کہ بس اس کے بعد تمہیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے! تم اس تعویذ کو فلاں فلاں بیماریوں کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہو! ذرا آپ بتلائیں کہ کیا یہ اب بھی شرک اصغر ہے؟ یقیناً نہیں، یہ تو غیر اللہ کی بندگی اور عبادت ہے، غیر اللہ پر توکل ہے، غیر اللہ سے مشکل کشائی کا مطالبہ ہے، مخلوق کے سامنے سرنگوں کرنے کے مترادف ہے، ان افعال سے انسان دین سے باہر ہو جاتا ہے، ایسے حیلے بہانے اختیار کر کے شیطان اپنے مقصد میں تبھی کامیاب ہو ا ہے جب انسانی شیطان نے مدد کی، حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَٰنِ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ ترجمہ: کہہ دیجیے! رحمن کے علاوہ تمہاری رات اور دن کون حفاظت فرماتا ہے؟ وہ تو اپنے رب کے تذکرے سے بھی روگردانی اختیار کیے ہوئے ہیں۔[الانبیاء: 42] پھر یہی شخص شیطانی طلاسم لکھنے کے بعد معمولی سی قرآنی آیات بھی لکھ دیتا ہے، اور یہ اسے پاکی اور ناپاکی ہر حالت میں لٹکائے رہتا ہے، جنابت اور بے وضگی ہر طرح کی حالت میں یہ تعویذ اس کے ساتھ ہوتا ہے ، اس تعویذ کو کسی بھی طرح کی غیر مناسب حالت سے دور نہیں رکھتا۔ اللہ کی قسم! کسی بھی اسلام دشمن نے اللہ کے کلام کی اتنی بے حرمتی نہیں کی ہو گی جتنی ان زندیق اور نام نہاد اسلام کے دعوے دار لوگوں نے کی ہے۔ اللہ تعالی نے تو قرآن کریم اس لیے نازل کیا تھا کہ اس کی تلاوت کریں، اس پر عمل کریں، قرآنی احکامات کی تعمیل کریں اور ممنوعات سے رکیں، قرآن میں ذکر کی گئی خبروں کو سچا مانیں اور جہاں قرآن روک دے وہاں سے رک جائیں، قرآن کریم میں ذکر کی گئی مثالوں سے نصیحت حاصل کریں، ذکر کردہ واقعات اور قصص سے نصیحت پکڑیں، اور ان تمام چیزوں پر ایمان لائیں کہ یہ سب چیزیں اس قرآن کریم میں اللہ رب العالمین کی جانب سے ہیں۔ لیکن تعویذ گنڈے کرنے والوں نے ان تمام چیزوں کو معطل کر کے رکھ دیا، ان تمام مقاصد کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا ، قرآن کا صرف رسم ہی باقی رکھا وہ بھی اس لیے کہ اسے بیچ کر اپنا پیٹ بھریں، اور روزی روٹی کا سلسلہ چلتا رہے، انہوں نے قرآن کریم کی کتابت کو تلاش معاش کے ذرائع جیسا ایک ذریعہ سمجھ لیا ہے اور اس کے ذریعے حلال نہیں بلکہ حرام کھاتے ہیں۔ اسے سمجھنے کے لیے آپ یوں سمجھیں کہ اگر کسی بادشاہ یا امیر نے اپنے ماتحت گورنر کو لکھ بھیجا کہ : تم نے فلاں کام کرنا ہے، اور فلاں کام نہیں کرنا۔ فلانے علاقے کے نگران کو فلاں کام کا کہو اور فلاں ، فلاں سے روک دو، اس خط کے ملنے پر گورنر صاحب اسے نہ پڑھیں، نہ سمجھیں، نہ یہ دیکھیں کہ کیا حکم دیا گیا ہے اور کس کس چیز سے روکا گیا ہے ، پھر اپنے ماتحت نگرانوں اور متعلقہ افراد کو بھی شاہی فرمان نہ پہنچائیں ، بلکہ خط کو اٹھا کر اپنی گردن میں لٹکا لے یا بازو پر باندھ لے، اور یہ بالکل نہ دیکھے کہ اس میں لکھا کیا ہوا ہے، تو اس کے ساتھ بادشاہ سلامت کیا کریں گے؟ یقیناً اسے سخت ترین سزا دیں گے ، تو ایک انسان کے پیغام اور خط کا یہ معاملہ ہے تو آسمانوں اور زمین کے رب اور جبار کی نازل کردہ کتاب کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنے پر کیا ہونا چاہیے؟! یہ بات صرف سمجھانے کے لیے ، وگرنہ اللہ تعالی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سے اعلی ترین مثالیں ہیں۔ دنیا ہو یا آخرت اللہ تعالی کے لیے حمد اور شکر ہے؛ اسی کے ہاتھ میں تمام امور کی باگ ڈور ہے، آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر توکل کریں، وہی مجھے کافی ہے، اس کے سوا کوئی حقیقی معبودِ بر حق نہیں ، میں اسی پر توکل کرتا ہوں، وہی عرشِ عظیم کا پروردگار ہے۔ لہذا اگر تعویذ قرآنی آیات اور احادیث میں ثابت شدہ دعاؤں سے ہٹ کر کچھ اور ہی چیز ہے تو بلا شک و شبہ شرک ہے؛ بلکہ ایسے تعویذ پانسوں کا حکم رکھیں گے۔

اور اگر تعویذ وحی یعنی کتاب و سنت کی نصوص پر مشتمل نہیں ہیں بلکہ یہودیوں ، ہیکل کے پرستاروں ، تاروں اور فرشتوں کے پجاریوں ، یا جنوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے طلاسم پر مشتمل ہے، یا پھر تعویذ منکوں، دھاگوں، لوہے کے کڑوں وغیرہ پر مشتمل ہے تو یہ بھی شرک ہے، یعنی انہیں لٹکانا بلا شک و شبہ شرک کے زمرے میں آتا ہے؛ کیونکہ یہ جائز اسباب اور ایسی ادویات میں سے نہیں ہے جن سے علاج ممکن ہو، [یعنی ان چیزوں کی ساخت میں کوئی ایسی خاصیت نہیں ہے جو بیماری کے لیے مؤثر ہو۔ مترجم] بلکہ انہوں نے ان چیزوں کے بارے میں اپنے نظریات اور عقائد بنا لیے ہیں کہ یہ چیزیں ذاتی طور پر بیماریوں میں فائدہ دیتی ہیں، ان کا یہ دعوی بت پرستوں کے دعوے جیسا ہے ۔ بلکہ ان کی مزعومہ مفید چیزیں دورِ جاہلیت کے پانسوں جیسی ہیں کہ جنہیں اس دور میں لوگ اپنے ہمراہ رکھتے تھے، اور جب بھی کوئی کام کرنا چاہتے تو پانسوں کے ذریعے فال نکالتے تھے، یہ پانسے تین قسم کے تیر ہوتے تھے، ایک پر لکھا ہوتا تھا کہ: کام کرو، دوسرے پر کام سے ممانعت ہوتی تھی اور تیسرا خالی ہوتا تھا، چنانچہ اگر کام کرو والا تیر آ جاتا تو کام کر لیتے تھے اور اگر منع والا تیر آ جاتا تو کام نہ کرتے بلکہ وہیں چھوڑ دیتے تھے، اور اگر خالی تیر آتا تو دوبارہ پھر قسمت آزمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالی نے ہمیں الحمدللہ اس کا بہترین متبادل دیا ہے، اور اس کا اس شرکیہ عمل سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے اور وہ ہے نماز استخارہ پڑھ کر دعائے استخارہ کرنا ہے۔

مقصد یہ ہے کہ: ایسے تعویذ جو قرآنی آیات یا مسنون دعاؤں پر مشتمل نہیں ہیں ان کا حکم پانسوں والا ہے؛ کیونکہ جس طرح پانسوں میں غلط نظریات ہوتے ہیں اسی طرح ان تعویذوں کے بارے میں بھی غلط اور اسلام کے مخالف نظریات پائے جاتے ہیں، اس لیے کہ خالص توحید کے پرستار کبھی بھی اس قسم کی چیزوں پر اعتقاد نہیں رکھتے، ان کے دلوں میں ایمان اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ ایسی کمزور باتیں دل میں داخل ہی نہیں ہوتیں، موحد حضرات اس بات سے کہیں بلند و بالا ہوتے ہیں کہ وہ غیر اللہ پر توکل کریں یا غیر اللہ پر اعتماد کریں، اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔" ختم شد
(2 /510 -512)

تعویذ چاہے قرآنی آیات پر مشتمل ہوں ان کا حکم بھی ممانعت کا ہے، ہمارے مشایخ کا یہی موقف ہے:

  • دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:

علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نظر بد کے علاج کے لیے غیر قرآنی تعویذ حرام ہے، لیکن اگر قرآنی آیات پر مشتمل ہو تو اس کے بارے میں اختلاف ہے، چنانچہ کچھ اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے جبکہ کچھ نے منع کیا ہے، تاہم ممانعت کا موقف احادیث کے عموم اور سد ذرائع کے طور پر زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔

الشیخ عبد العزیز بن باز، الشیخ عبد اللہ غدیان، الشیخ عبد اللہ قعود

"فتاوى اللجنة الدائمة" (1/212)

  • الشیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

یہ گمراہی خانہ بدوشوں، کھیتی باڑی کرنے والوں اور کچھ شہری آبادی والے لوگوں میں بھی پھیل رہی ہے ، اسی طرح کچھ لوگ اپنی گاڑیوں کے سامنے والے شیشے پر منکے اور تسبیح وغیرہ لٹکا دیتے ہیں، کچھ لوگ پرانی جوتی گاڑی کے آگے یا پیچھے لٹکاتے ہیں، کچھ لوگ گھوڑے کی نعل گھر یا دکان کے سامنے والے حصے پر لٹکا دیتے ہیں، یہ سب کچھ وہ اپنے تئیں نظر بد سے تحفظ کے لیے کرتے ہیں ، کچھ اس کے علاوہ بھی طریقہ کار اپناتے ہیں یہ سب گری ہوئی حرکتیں توحید سے ناواقفیت کی وجہ سے ہیں، لوگوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ عقیدہ توحید کے منافی امور کون کون سے ہیں کہ جن کو کالعدم قرار دینے کے لیے اللہ تعالی نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسولوں کو بھیجا، مسلمانوں کی اسلام سے لا علمی اور دین سے دوری پر ہم بارگاہِ الہی میں شکوی کناں ہیں۔" ختم شد
"سلسلة الأحاديث الصحيحة" (1/890)، (492)

واللہ اعلم

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد