بدھ 15 ذو القعدہ 1440 - 17 جولائی 2019
اردو

خیراتی اداروں کو زکاۃ تقسیم کرنے کیلیے دینا

105946

تاریخ اشاعت : 18-07-2016

مشاہدات : 991

سوال

سوال: کیا خیراتی اداروں کے بینک اکاؤنٹس میں زکاۃ کی رقم جمع کروانا جائز ہے؟ حالانکہ میرے علاقے میں مستحق افراد بھی ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

غریبوں میں زکاۃ کی تقسیم کیلیے خیراتی اداروں کے بینک اکاؤنٹس میں زکاۃ کی رقم جمع کروانا جائزہے ، بشرطیکہ ان اداروں کے ذمہ داران معتمد  ہوں اور زکاۃ کو زکاۃ کے حقیقی مصارف میں ہی خرچ کریں۔

اصولی طور پر زکاۃ اسی علاقے میں تقسیم کی جاتی ہے جہاں پر اصل مال موجود ہو، لیکن اگر کہیں پر ضرورت محسوس ہو مثال کے طور پر جہاں زکاۃ کا مال بھیجا جا رہا ہے وہاں کے لوگوں کو زکاۃ کی اشد ضرورت ہو یا زکاۃ دینے والے کے غریب اقربا ء اس علاقے میں رہتے ہوں یا کوئی اور ضرورت ہو تو ایسی صورت میں زکاۃ دوسرے علاقے میں منتقل ہو سکتی ہے۔

مزید کیلیے سوال نمبر: (13064) اور (43146) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں