اتوار 8 ربیع الثانی 1440 - 16 دسمبر 2018
اردو

گواہى رد ہونے يا محكمہ كو خبر نہ دے سكنے والے كے روزے اور عيد كا حكم

سوال

اگر كسى شخص نے چاند ديكھا اور رؤيت ہلال كميٹى يا محكمہ كو خبر نہ كر سكا، يا اس كى گواہى رد كر دى گئى تو كيا وہ اكيلا روزہ ركھ لے، اور اسى طرح عيد الفطر ميں كيا روزہ نہ ركھے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

بعض اہل علم كہتے ہيں كہ وہ اكيلا ہى روزہ ركھ لے، ليكن صحيح يہى ہے كہ اس كے ليے اكيلے روزہ ركھنا جائز نہيں، اور نہ ہى وہ اكيلا عيد كر سكتا ہے، بلكہ اسے چاہيے كہ وہ لوگوں كے ساتھ ہى روزہ ركھے اور لوگوں كے ساتھ ہى عيد منائے.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" روزہ اس دن ہے جس دن تم روزہ ركھو، اور عيد الفطر اس دن ہے جس دن تم عيد الفطر مناؤ "

ليكن اگر وہ صحراء ميں ہو اور اس كے پاس كوئى اور نہيں تو وہ اپنى رؤيت پر عمل كرتے ہوئے روزہ ركھے اور عيد منائے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں