بدھ 16 شوال 1440 - 19 جون 2019
اردو

کیا اپنے داماد کو زکاۃ دے سکتا ہے؟ کیونکہ اس کی تنخواہ بہت تھوڑی ہے؟

106542

تاریخ اشاعت : 08-02-2016

مشاہدات : 1600

سوال

سوال: کیا کسی آدمی کیلئے اپنی زکاۃ اپنے داماد کو دینا جائز ہے؟ کیونکہ اس کی تنخواہ معمولی ہے اور اس کے بچے بیرون ملک یونیورسٹیز میں پڑھ رہے ہیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

آدمی اپنی زکاۃ اپنے داماد کو دے سکتا ہے، بشرطیکہ  وہ زکاۃ کا مستحق ہو، کیونکہ فرمانِ باری تعالی عام ہے:
(إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)
ترجمہ: صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور [زکاۃ جمع کرنے والے]عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر (خرچ کرنے کے لیے ہیں)،یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ التوبة:60]

فقیر اور مسکین کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جس کے پاس ضرورت پوری کرنے کیلئے مال نہ ہو۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فقراء اور مساکین اپنی ضرورت کی بنا پر زکاۃ وصول کر سکتے ہیں، تاہم فقیر شخص  مساکین سے زیادہ حقدار ہے۔

اہل علم کا کہنا ہے کہ: اس میں وہ شخص شامل ہے جو اپنا اور اہل و عیال  کا پیٹ پالنے سے قاصر ہے، لیکن جو شخص  پیٹ پال سکتا ہے تو وہ فقراء اور مساکین میں شامل نہیں ہے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ : اگر ایک شخص کی ماہانہ تنخواہ  4000 ریال ہے، لیکن اس کے اہل خانہ کا خرچہ 6000 ماہانہ ہے  جس میں کپڑے، کھانے پینے  کا سامان، مکان کا کرایہ اور دیگر ضروریات زندگی شامل ہوتی ہیں، تو  ماہانہ 2000 ریال  کی کمی کا سامنا ہونے کی وجہ سے اسے سالانہ 24000 ریال دیے جائیں گے، اس سے زیادہ کچھ نہیں دیا جائے گا، جیسے کہ اہل علم کا کہنا ہے کہ: فقراء اور مساکین کو ان کی سالانہ ضرورت کے مطابق دیا جائے گا" انتہی
"فتاوى نور على الدرب"

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:
" ماہانہ تنخواہ لینے والا ملازم اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے زکاۃ لینے کا مستحق ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
" اگر اس کی ماہانہ تنخواہ اس کے اخراجات پورے نہ کرتی ہو اور اس کے پاس اور کوئی ذریعہ  آمدن بھی نہ ہو تو وہ زکاۃ لے سکتا ہے، چنانچہ جس شخص پر زکاۃ واجب ہو رہی ہے تو وہ اسے صرف اتنا دے جو اس کے جائز اخراجات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو؛ کیونکہ مذکورہ حالت میں وہ مسکینوں میں شمار ہوگا۔" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (10/7)

اسی میں (10/17) ہے کہ:
"متوسط درجے کی زندگی گزارنے والا شخص  جس کے پاس اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کیلئے ذرائع اور وسائل موجود ہوں تو اسے زکاۃ دینا جائز نہیں ہے، اور اگر سخت کنجوسی کے ساتھ ہی اس کی ضروریات پوری ہوتی ہوں تو پھر بقدر ضرورت و حاجت زکاۃ دی جا سکتی ہے" انتہی
مندرجہ بالا تفصیل کے بعد:
جس شخص کے بارے میں استفسار کیا گیا ہے اس کی ماہانہ تنخواہ مہینے کے آخر تک کافی نہیں ہوتی تو اسے زکاۃ دینا جائز ہے، بلکہ اگر اچھی تنخواہ بھی اسے کفایت نہ کرے تب بھی زکاۃ وصول کر سکتا ہے؛ کیونکہ اس کی ساری تنخواہ اپنے اور بچوں کے عام اور تعلیمی اخراجات میں صرف ہو جاتی ہے، اور جیسے ہی اس میں زکاۃ کے مستحق افراد کی صفات پائی جائیں گی اسے زکاۃ دینا جائز ہوگا۔

دوم:

ہر انسان کو چاہیے کہ اس کے اخراجات آمدن کے مطابق متوازن ہوں ، چنانچہ یہ کوئی حکمت والی بات نہیں ہے کہ انسان خود فقیر ہو اور اس کے پاس کچھ ہو بھی نہ لیکن پھر بھی اپنے بچوں کو بیرون ملک جامعات میں تعلیم دلوانے کیلئے  خطیر رقم صرف کر دے اور پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھرے۔

بلکہ وہ اپنے بچوں کو ایسی جامعات میں داخل کروا سکتا تھا جن میں تعلیمی سہولیات قدرے سستی ہیں، تا کہ خود کو دوسروں کے سامنے ذلت سے بچا سکے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں