بدھ 14 رجب 1440 - 20 مارچ 2019
اردو

سودي مال سےاشياء خريدنےوالے كوسامان فروخت كرنے كا حكم

10676

تاریخ اشاعت : 13-11-2005

مشاہدات : 4302

سوال

ايك ايسا شخص پايا جاتا ہے جوحلال مال سےگھر تعمير كركے كسي دوسرے كو فروخت كرديتا ہے، اوران گھروں كوخريدنےوالےسودي رقم سے خريداري كرتےہيں، تو كيا پہلے شخص كو كوئي گناہ ہوگا؟
يہ بات معروف ہے كہ يورپ ميں رہنےوالے اكثر لوگ گھر خريدنے كے ليے قرضہ حاصل كرتےہيں، اوروہ نقد قيمت ادا نہيں كرسكتے.

جواب کا متن

الحمد للہ :

ورع اورتقوي كےلحاظ سے بہتر يہي ہےكہ اس معاملہ ميں داخل نہ ہوا جائے، ليكن اصل يہي ہے كہ اس شخص كا سودي معاملہ سے كوئي تعلق نہيں اور نہ ہي وہ اس ميں كوئي فريق ہے، اس ليےكہ بنك سود لينےاور خريدار سود دينےوالا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال وجواب

تاثرات بھیجیں