جمعرات 28 جمادی اولی 1441 - 23 جنوری 2020
اردو

بھائى جيل ميں اور چچا دوسرے ملك ميں ہيں اب ولى كون ہوگا ؟

107182

تاریخ اشاعت : 16-06-2013

مشاہدات : 2125

سوال

ميں نئى نئى مسلمان ہوں، ليكن ميرے چچا مسلمان ہيں اور وہ دوسرے ملك ميں رہتے ہيں، ميرے والدصاحب فوت ہو چكے ہيں، اس ليے ميں اور بھائى نے غير مسلموں كى طرح تربيت پائى ہے، ميرا بھائى بھى مسلمان ہو چكا ہے ليكن اس وقت وہ جيل ميں ہے، ميں اپنى عيسائى ماں كے ساتھ رہتى ہوں جو غير شادى شدہ ہے، اس وقت ميرا محرم ميرے نانا جان ہيں ليكن وہ بھى عيسائى ہيں، اور دوسرا محرم ميرا بھائى ہے جوكہ جيل ميں ہے.
اس حالت ميں ميرا ولى كون ہوگا، آيا جس مسجد ميں نماز ادا كرتى ہوں وہاں كا امام يا پھر ميرے چچا يا كہ جس طرح كے بھى حالات ہوں ميرا بھائى ولى بنے گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

ہم اللہ سبحانہ و تعالى كا شكر ادا كرتے ہيں جس نے آپ كو دين اسلام قبول كرنے كى توفيق نصيب فرمائى، اور ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كے ايمان و علم اور ثابت قدمى و ہدايت ميں اضافہ فرمائے.

دوم:

عورت كا ولى اس كا باپ اور پھر عورت كا بيٹا اور پھر پوتا ہے ( اگر اس كے بيٹے ہوں تو ) پھر عورت كا سگا بھائى اور پھر باپ كى جانب سے بھائى اور پھر سگے بھائى كے بيٹے اور پھر باپ كى جانب بھائى كے بيٹے، پھر عورت كے چچا اس كے ولى ہونگے، پھر چچا كے بيٹے اور پھر باپ كى جانب سے چچا اور پھر حاكم ولى بنے گا " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 9 / 355 ).

اجداد ميں سے جنہيں عورت پر ولايت حاصل ہے وہ باپ كى طرف دادا ہوگا ليكن نانا ولى نہيں بن سكتا.

اس بنا پر آپ كا ولى آپ كا مسلمان بھائى ہوگا، اور اس كا جيل ميں ہونا ولى بننے ميں مانع نہيں، بلكہ اس سے ٹيلى فون پر يا پھر ملاقات كر كے رشتے كا بتا كر عقد نكاح كرنے كے ليے وہ كسى دوسرے كو وكيل بنا سكتا ہے جو اس كے قائم مقام بن كر عقد نكاح كرے.

اور اگر ايسا ممكن نہ ہو سكے تو پھر آپ كا چچا ولى ہو گا، اور كسى دوسرے ملك ميں ہونے سے كوئى فرق نہيں پڑتا وہ كسى دوسرے كو اپنا وكيل بنا سكتا ہے، يا پھر جديد وسائل مثلا ٹيلى فون اور انٹرنيٹ كے ذريعہ عقد نكاح كيا جا سكتا ہے.

مزيد معلومات حاصل كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 2201 ) اور ( 105531 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

ہم دعا كرتے ہيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو نيك و صالح خاوند اور اولاد نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں