بدھ 17 رمضان 1440 - 22 مئی 2019
اردو

لڑكى كے يونيورسٹى سے فراغت كے جشن كى تصوير مردوں كے ڈرائنگ روم ميں لگانا

10897

تاریخ اشاعت : 28-04-2008

مشاہدات : 4766

سوال

ميں ان شاء اللہ عنقريب يونيورسٹى سے فارغ ہونے والى ہوں، خاندان ميں يہ عادت اور رواج ہے كہ خاندان كا كوئى فرد جب سند فراغت حاصل كرتا ہے تو اس كے فراغت كے موقع كى تصوير ڈرائنگ روم ميں لگاتے ہيں، ان شاء اللہ خاندان كے افراد سمندر پار سے ميرى فراغت كے موقع پر اكٹھے ہونے والے ہيں، اور انہيں توقع ہے كہ ميں ميك اپ وغيرہ بھى كرونگى، اور وہ ميرى تصاوير بھى ( پورٹريٹ ) بنائيں گے، اور يہ تصوير دوسرى تصاوير كے ساتھ ڈرائنگ روم ميں لگائى جائيگى، مشكل يہ ہے كہ ہمارے خاندان كے دوست مرد بھى ہيں جو آكر ڈرائنگ روم ميں بيٹھتے ہيں تو اس طرح وہ ميرى تصوير بھى ديكھيں گے.
ميں نے اپنى والدہ كو بتايا ہے كہ گھر ميں تصاوير لگانا جائز نہيں، ليكن وہ معلوم ہى نہيں كرنا چاہتيں، ليكن ميرا انہيں اپنى تصوير ديورا پر لٹكانے كى اجازت دينا گھر ميں باقى لٹكائى گئى تصاوير پر بہت زيادہ اثر انداز تو نہيں ہوگا، اسى طرح ميں گھر ميں موجود تصاوير كو اتارنے كا حق بھى نہيں ركھتى.
ان شاء اللہ وہ مجھے ميك اپ كرنے پر مجبور نہيں كر سكتے ليكن اگر ميں انہيں اپنى تصوير " پورٹريٹ " بنانے كى اجازت نہ دوں تو ہو سكتا ہے كہ مجھے تنگ كريں، اور ہو سكتا ہے كہ وہ يہ گمان كريں كہ وہ اتنى دور اور لمبى مسافت ويسے ہى طے كر كے آئے ہيں اس سے يہ ظاہر ہو گا كہ ميں ان كا اہتمام تك نہيں كرتى، اس ليے آپ مجھے كيا نصيحت كرتے ہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

راجح يہ ہے كہ فوٹو گرافى يعنى تصوير بنانا ذى روح كى تصاوير كى عمومى ممانعت ميں شامل ہوتى ہے، اور پھر اگر يہ تصوير عورت كى ہو ( اور اسے مرد ديكھيں ) تو يہ اور بھى خطرناك ہے، كيونكہ اس ميں فتنہ و شر اور فساد و خرابى ہے، اور لوگوں كا غضب و غصہ اس حرام كام كے ارتكاب كو جائز نہيں كر ديتا، كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كے غضب و ناراضگى سے بچنا ضرورى ہے، بلكہ زيادہ حق ركھتا ہے كہ اس سے بچا جائے.

اور جب اللہ سبحانہ و تعالى جان لے كہ بندہ صدق اور سچائى اختيار كيے ہوئے ہے تو اللہ تعالى اس كے ساتھ ہوتا ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص لوگوں كو ناراض كر كے اللہ كى رضا تلاش كرتا ہے تو اللہ تعالى خود بھى اس سے راضى ہو جاتا ہے، اور لوگوں كو بھى اس سے راضى كر ديتا ہے " .

ماخذ: الشیخ ولید الفریان ۔

تاثرات بھیجیں