اتوار 18 رجب 1440 - 24 مارچ 2019
اردو

مصيبت كے وقت سياہ لباس پہننا باطل رسم ہے جس كى كوئى دليل نہيں ملتى

10919

تاریخ اشاعت : 13-03-2006

مشاہدات : 2633

سوال

كيا كسى كے فوت ہونے پر اور خاص كر خاوند كى وفات پر سياہ لباس پہننا جائز ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

مصائب اور تكاليف كے وقت سياہ لباس پہننا ايك باطل علامت ہے جس كى كوئى دليل نہيں ملتى... مصيبت كے وقت انسان كو چاہيے كہ شريعت مطہرہ پر عمل كرے اور وہى اعمال بجا لائے جو شريعت مطہرہ نے مشروع كيے ہيں، لہذا اسے مصيبت كے وقت ( انا للہ و انا اليہ راجعون ) ( يقينا ہم اللہ تعالى كے ليے ہيں اور اسى كى طرف پلٹنے والے ہيں ) پڑھے.

اور اس كے ساتھ سنت نبويہ ميں وارد شدہ مندرجہ ذيل دعا بھى پڑھے:

( اللہم اجرنى فى مصيبتى، واخلف لى خيرا منھا )

( اے اللہ مجھے ميرى مصيبت ميں اجر دے، اور مجھے اس سے بہتر عطا فرما )

اگر وہ يہ دعائيں ايمان اور اجروثواب كى نيت سے پڑھتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالى اسے اس پر اجر عطا كرےگا اور اس كے بدلے ميں اس سے بھى بہتر چيز عطا فرمائےگا.

ليكن كسى خاص رنگ كا لباس پہننا مثلا سياہ يا اس طرح كا كوئى اور لباس زيب تن كرنے كى كوئى دليل نہيں ہے، اور يہ باطل اورمذموم ہے.

ماخذ: ماخود از: فتاوى الشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى - ديكھيں: مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1789 ) صفحہ نمبر ( 60 )

تاثرات بھیجیں