سوموار 2 ربیع الثانی 1440 - 10 دسمبر 2018
اردو

مستحاضہ اور سلس البول کی بیماری والے کے لیے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔

109191

تاریخ اشاعت : 10-11-2018

مشاہدات : 219

سوال

میں سلس البول کی بیماری میں مبتلا ہوں، تو کیا میرے لیے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

مستحاضہ اور سلس البول والا شخص نجاست سے تحفظ کے لیے اقدامات  لازمی کرے تا کہ نجاست ادھر ادھر نہ پھیلے، اس کے لیے کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے یا پیڈ رکھ لے اس طرح نجاست بدن اور کپڑوں کو نہیں لگے گی،  مریض کے لیے ہر نماز کے وقت بدن سے نجاست دھونا لازمی ہو گا اور لنگوٹ یا پیڈ بدلے گا۔

مریض کے لیے ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرنا ضروری ہو گا، مریض اس وضو کے ساتھ فرض اور جتنے چاہے نوافل ادا کر سکتا ہے۔

مریض کے لیے آسانی پیدا کرتے ہوئے شریعت نے ظہر کو عصر   کے ساتھ اور مغرب کو عشا کے ساتھ ادا کرنے کی اجازت دی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مستحاضہ کو رخصت مرحمت فرمائی تھی کہ دو نمازوں کو جمع کر لے، یہ روایت امام احمد، ابو داود، اور ترمذی  نے نقل کی ہے اور ارواء الغلیل (205) میں البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے، اور سلس البول والا مریض بھی مستحاضہ کی طرح ہوتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مریض  اور مستحاضہ نمازیں جمع کر سکتے ہیں۔" ختم شد
"مجموع فتاوى ابن تيمية" (24/14)

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :
"جس شخص کے لیے دونوں نمازوں کے اوقات میں طہارت باقی رکھنا مشقت کے ساتھ ہی ممکن ہو جیسے کہ مستحاضہ وغیرہ ہیں تو ایسی صورتوں میں ان کے لیے دونوں نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔" ختم شد
"مجموع فتاوى ابن تيمية" (24/84)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مستحاضہ کے لیے ظہر اور عصر اسی طرح مغرب اور عشا  کو اکٹھا  کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اس کے لیے ہر نماز  کا الگ وضو کرنا مشکل ہے۔" ختم شد
"الشرح الممتع" (4/559)

اس بنا پر آپ کے لیے ظہر اور عصر اسی طرح مغرب اور عشا کی نماز کو جمع کرنا جائز ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں