اتوار 21 رمضان 1440 - 26 مئی 2019
اردو

مشكوك وصولى والے قرض ميں زكاۃ

1117

تاریخ اشاعت : 16-11-2005

مشاہدات : 3920

سوال

ايك شخص كے پاس كچھ رقم ہے جو اس كے بھائيوں اور جان پہچان والوں نے بطور قرض حاصل كر ركھى ہے، ہو سكتا ہے يہ قرض اسے واپس ملے يا نہ ملے وہ يہ سوال كرتا ہے كہ آيا اس ميں زكاۃ واجب ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جس شخص كى رقم كسى ايسے شخص كے ذمہ قرض ہو جو مالدار ہے اور وہ قرض نصاب كو پہنچتا ہے يا اس كے پاس موجود رقم ملا كر نصاب پورا ہو جاتا ہے تو اس ميں زكاۃ واجب ہو گى، اور جب وہ يہ قرض وصول كرے گا تو گزشتہ برسوں كى سارى زكاۃ ادا كرے گا، چاہے ايك سال ہو يا زيادہ، اور اگر وہ وصولى سے قبل اس كى زكاۃ ادا كر دے تو يہ بہتر ہے.

اور اگر اس كى رقم كسى ايسے شخص كے پاس قرض ہے جو تنگ دست ہے تو وہ اس كى زكاۃ اس كى وصولى كے بعد صرف ايك برس كى زكاۃ ادا كرے گا.

يہ امام احمد رحمہ اللہ كى ايك روايت اور امام مالك رحمہ اللہ كا قول ہے، اور شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے بھى يہى اخيتار كيا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 190 )

تاثرات بھیجیں