جمعہ 19 ربیع الثانی 1442 - 4 دسمبر 2020
اردو

دائمى بيمارى كى بنا پر روزے چھوڑے اور فديہ ادا كر ديا

112096

تاریخ اشاعت : 25-09-2011

مشاہدات : 3013

سوال

ايك شخص كو دائمى بيمارى كى وجہ سے ڈاكٹروں نے روزہ نہ ركھنے كى تلقين كى، ليكن اس نے كسى دوسرے ملك كے ڈاكٹروں سے علاج كراويا اور پانچ برس بعد اللہ كے حكم سے شفايابى ہوئى.
سوال يہ ہے كہ اس نے پانچ برس تك روزے نہيں ركھے تھے كيا وہ شفايابى حاصل ہونے كے بعد ان روزوں كى قضاء كريگا يا نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

" اگر تو وہ ڈاكٹر جنہوں نے اسے مستقل روزے نہ ركھنے كى نصيحت كى تھى قابل اعتماد مسلمان ڈاكٹر تھے، اور انہوں نے اسے بتايا كہ اس بيمارى سے شفايابى كى اميد نہيں تو اس شخص پر قضاء نہيں ہے، بلكہ اسے فديہ ميں كھانا دينا ہى كافى ہوگا، اور اب اسے مستقبل ميں روزے ركھنے ہونگے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب