منگل 18 شعبان 1440 - 23 اپریل 2019
اردو

بال توڑنے یا کاٹنے پر فدیہ کی کتنی قیمت ہے؟

112877

تاریخ اشاعت : 06-09-2016

مشاہدات : 1109

سوال

سوال:بال یا ناخن کاٹنے پر فدیہ کی ریالوں میں کتنی قیمت بنتی ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

احرام کی پابندیوں میں یہ چیز شامل ہے کہ : سر یا پورے جسم کے کہیں سے بھی بال کاٹے یا نہ توڑے جائیں ، ناخن کاٹنا بھی منع ہے، مذکورہ کسی بھی ممنوع عمل کے ارتکاب پر الگ الگ فدیہ لازم ہو گا، فدیہ ادا کرنے کیلیے ترتیب اختیاری ہے، چنانچہ اس کیلیے بکری ذبح کی جائے گی یا ہر مسکین کیلیے نصف اناج [تقریباً اڑھائی کلو]کے اعتبار سے چھ مساکین کو کھانا کھلایا جائے گیا ، یا پھر تین روزے رکھے جائیں گے؛ اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے:
( وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ )
ترجمہ: اور اپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہیں پہنچ جاتی، [تاہم ] جس شخص کو بیماری، یا سر میں تکلیف کے باعث [بال منڈوانے کی ضرورت پڑے] تو وہ روزے رکھے، یا صدقہ کرے یا جانور ذبح کرے۔[البقرة:196]

نیز کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ انہیں احرام کی حالت میں اپنا سر وقت سے پہلے منڈوانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: (تم اپنا سر منڈوا لو ، اور پھر تین روزے رکھو یا پھر چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ یا قربانی کے لائق جانور ذبح کرو) بخاری: (4190) مسلم: (1201)

نقدی کی صورت میں فدیہ ادا کرنا جائز نہیں ہے، اور اگر کوئی ادا کر بھی دے تو صحیح نہیں ہو گا؛ کیونکہ ایسی کوئی نص وارد نہیں ہوئی جس میں نقدی فدیہ ادا کرنے کا کہا گیا ہو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اناج یا غلے کی شکل میں دینا ضروری ہے۔

اور اگر آپ کا سوال ایسے شخص کے متعلق ہے جو قربانی کرنا چاہتا ہے اور وہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال یا ناخن کاٹ لیتا ہے  اور اس نے حج یا عمرے کا احرام بھی نہیں باندھا ہوا ، تو اس پر کچھ نہیں ہے ، اگرچہ بال کاٹنا حرام ہے، اس لیے اس غلطی کے ارتکاب پر توبہ و استغفار ہی ہے، مزید کیلیے سوال نمبر: (36567) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں