جمعرات 16 ذو القعدہ 1440 - 18 جولائی 2019
اردو

قنوت نازلہ میں بلند آواز سے آمین کہنا

113994

تاریخ اشاعت : 12-04-2015

مشاہدات : 2779

سوال

سوال: مصیبت اور سنگین سانحہ رونما ہونے پر امام دعائے قنوت کرتا ہے، تو ایسی صورت میں مقتدی حضرات پر بلند آواز سے آمین کہنا ضروری ہے، یا دل میں بھی آمین کہہ سکتے ہیں؟ اور کیا امام نمازیوں کو بلند آواز سے آمین نہ کہنے پر ڈانٹ پلا سکتا ہے؟ آمین بلند آواز سے کہنا اگر واجب ہے تو اسکی مجھے دلیل چاہیے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

فقہائے کرام کا قنوت نازلہ کے دوران  "آمین" کہنے کے طریقے کے بارے میں اختلاف ہے:
چنانچہ احناف کا موقف ہے کہ قنوتِ نازلہ میں سرے سے آمین نہیں ہے ؛ اسکی وجہ یہ ہے کہ قنوت سرّی ہوتی ہے، تاہم امام بلند آواز سے قنوت کرے تو آمین کہی جاسکتی ہے۔

جبکہ شافعی اور حنبلی فقہائے کرام قنوتِ نازلہ میں آمین بلند آواز سے کہنے کے قائل ہیں۔

لیکن مالکی فقہاء کے ہاں قنوتِ نازلہ سرے سے جائز ہی نہیں ہے، اور آمین قنوت نازلہ کے تابع ہوتی ہے، چنانچہ ان کے ہاں قنوتِ نازلہ  کے نہ ہونے کی وجہ سے آمین کا تصور بھی نہیں ہے۔
مزید کیلئے دیکھیں: "الموسوعة الفقهية" (1/116)

 "مغنی المحتاج" (1/361) میں ہے کہ:
"فائدہ: پانچ جگہوں پر مقتدی امام کے پیچھے آواز بلند کر سکتا ہے، چار جگہیں "آمین" سے تعلق رکھتی ہیں،  یعنی: امام کے ساتھ سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہے، فجر کی نماز میں قنوت کے وقت آمین کہے، نصف رمضان کے بعد قنوت وتر میں  آمین کہے، اور پانچوں نمازوں میں قنوت نازلہ کے وقت، اور پانچویں جگہ  یہ ہے کہ جب امام تلاوت قرآن میں غلطی کرے تو مقتدی درستگی کیلئے آواز بلند کر سکتا ہے" انتہی

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر ہم پانچ نمازوں میں قنوت کو جائز کریں تو پھر جہری نمازوں میں تو  واضح ہے کہ قنوت  جہری ہوگی،  اور اگر سرّی نمازوں میں قنوت کرنی ہے تو بھی جہری ہی ہوگی، جیسے کہ احادیث میں ثابت ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم  قنوت کرتے اور صحابہ کرام آپکے پیچھے آمین کہتے، اور آمین اسی وقت کہا جا سکتا ہے جب قنوت بھی جہری ہی ہو۔
چنانچہ آمین بلند آواز سے کہنا مسنون ہے، چاہے نماز سرّی ہی کیوں نہ ہو" انتہی
"الشرح الممتع" (4/47)

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ جب امام جہری قنوت کرے تو مقتدی کیلئے بھی جہری آمین کہنا شرعی عمل ہے، لیکن آواز بہت زیادہ بلند نہ کرے، کہ لوگوں کے خشوع و خضوع  میں خلل پیدا ہو، جیسا کہ کچھ لوگ اتنی آواز بلند کرتے ہیں جس سے ایسے لگتا ہے جیسے کوئی مظاہرہ ہو رہا ہے، نماز نہیں پڑھی جا رہی۔

اور بلند آواز سے آمین کہنا واجب نہیں ہے،  بلکہ مستحب ہے، بلکہ آمین کہنا بھی واجب نہیں ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں