بدھ 16 شوال 1440 - 19 جون 2019
اردو

فوت شدہ عورت كے پيٹ سے بچہ نكالنے كا حكم

11553

تاریخ اشاعت : 24-04-2006

مشاہدات : 3058

سوال

جب حاملہ عورت فوت ہو جائے اور ڈاكٹر يہ فيصلہ كريں كہ پيٹ ميں بچہ ابھى تك زندہ ہے تو كيا بچہ نكالنے كے ليے اپريشن كرنا جائز ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جب عورت فوت ہو جائے اور اس كے پيٹ ميں بچہ ہو تو اكثر اور غالب طور پر تو بچہ بھى ماں كے ساتھ ہى مر جاتا ہے، اور اگر باقى بھى رہے تو بہت كم مدت اور لحظہ تك زندہ رہتا ہے.

ليكن اگر ہم فرض كر ليں كہ يہ صحيح ہو اور پيٹ چاك كر كے بچہ كو زندہ بچانا ممكن ہو تو حنابلہ كا فيصلہ يہ ہے كہ جب يہ ثابت ہو جائے كہ ماں كے پيٹ سے بچہ زندہ نكالا جاسكتا ہے تو پيٹ چاك كرنے ميں كوئى حرج نہيں ہے.

وہ كہتے ہيں: اس كے پيٹ كا اپريشن كر كے بچہ زندہ نكال ليا جائےگا، اور پھر اس كے پيٹ كو سى كر دفن كر ديا جائےگا.

ماخذ: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 174 )

تاثرات بھیجیں