جمعہ 18 ربیع الاول 1441 - 15 نومبر 2019
اردو

حجر اسود کو بوسہ دینے کی حکمت

سوال

کیا حجر اسود کو بوسہ دینے کی حکمت یہ ہے کہ اس سے برکت حاصل کریں؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

"طواف کی حکمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ کہتے ہوئے بیان فرما دی کہ: ((بیشک بیت اللہ کا طواف ، صفا اور مروہ کی سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنا اللہ کا ذکر کرنے کے لئے مقرر کیے گئے ہیں)) تو بیت اللہ کے ارد گرد چکر لگا کر طواف کرنے والا دل سے اللہ کی تعظیم کرتا ہے اور اس طرح وہ بھی اللہ کا ذکر کرنے والا بن جاتا ہے، چنانچہ طواف کرنے والے کا پیدل چلنا، حجر اسود کو بوسہ دینا یا استلام کرنا، رکن یمانی کا استلام ، اور حجر اسود کی جانب اشارہ بھی اللہ کا ذکر ہے؛ کیونکہ یہ بھی اللہ کی عبادت میں شامل ہے، ذکر کا عمومی معنی دیکھا جائے تو اللہ کی تمام تر عبادات اللہ کا ذکر ہیں، چنانچہ زبان سے ادا ہونے والی تکبیر، ذکر اور دعا وغیرہ کے متعلق تو واضح ہے کہ یہ اللہ کا ذکر ہے، جبکہ حجر اسود کو بوسہ دینا بھی عبادت ہے وہ اس طرح کہ انسان اس سیاہ پتھر کو بوسہ صرف اسی لیے دیتا ہے کہ یہ بھی اللہ کی بندگی اور تعظیم ہے، اسی طرح بوسہ دے کر انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع بھی کرتا ہے، جیسے کہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ جس وقت انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا تو فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نفع یا نقصان نہیں دے سکتا، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا"

جبکہ کچھ جاہل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حجر اسود کو بوسہ دینے کی وجہ حصول برکت ہے، تو اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، اس لیے یہ نظریہ باطل ہو گا۔

اور کچھ زندیق قسم کے لوگ یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف بھی ایسے ہی ہے جیسے ولیوں کی قبروں کا طواف کیا جاتا ہے اور یہ بت پرستی میں آتا ہے، تو یہ بات اپنی زندیقیت اور الحاد کی وجہ سے کرتے ہیں؛ کیونکہ اہل ایمان بیت اللہ کا طواف صرف اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا ہے، اور جو کام اللہ کے حکم سے ہو تو وہ کام عبادت ہوتا ہے۔

آپ یہی دیکھ لیں کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا شرک اکبر ہے، لیکن جب اللہ تعالی نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کو سجدہ کریں تو یہ سجدہ تو آدم کو تھا لیکن عبادت اللہ کی تھی، اس صورت میں سجدہ نہ کرنا کفر تصور ہوا۔

اس لیے بیت اللہ کا طواف جلیل القدر عبادت ہے، یہ حج کا رکن بھی ہے اور حج اسلام کا ایک رکن ہے، یہی وجہ ہے کہ جب مطاف میں زیادہ رش نہ ہو تو طواف کرنے والے کے دل میں خاص لذت اور اللہ کا قرب محسوس ہوتا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ طواف کی شان اور فضیلت بہت اعلی ہے۔ واللہ المستعان" ختم شد
فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ
"فتاوى العقيدة" (ص 28، 29)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں