منگل 14 ذو القعدہ 1440 - 16 جولائی 2019
اردو

كسى دوسرے شخص كى داڑھى مونڈنے كا حكم

1190

تاریخ اشاعت : 24-06-2005

مشاہدات : 5568

سوال

ميں اسلامى احكام پر عمل كرنے والا ايك مسلمان شخص ہوں اور داڑھى ركھى ہوئى ہے، اور ايك باربر شاپ كا مالك ہوں، جہاں صرف مردوں كے بال بنائے جاتے ہيں، ميرا پيشہ يہى ہے، اور اس پيشے ميں گاہكوں كى داڑھياں بھى مونڈتا، اور گاہكوں كے بالوں كے ليے ڈرائي كے ليے ڈرائير استعمال كرتا ہوں، لہذا اس كا دينى حكم كيا ہو گا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اول:

پہلى بات تو يہ ہے كہ مسلمان كے ليے ڈاڑھى مونڈنا حرام ہے، اس كى حرمت پر بہت سے صحيح دلائل پائے جاتے ہيں، اور كسى دوسرے كے ليے بھى اس كى ڈاڑھى مونڈنا حرام ہے، كيونكہ ايسا كرنے ميں گناہ و معصيت اور ظلم و زيادتى ميں معاونت ہے، حالانكہ اللہ تعالى نے اس سے منع كرتے ہوئے فرمايا ہے:

اور تم گناہ و معصيت اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو.

دوم:

آپ كے ليے مردوں كے بالوں كو كنگھى كرنا، اور انہيں تيل اور خوشبو لگانا اور بنانا سنوارنا تو جائز ہے، ليكن آپ غير محرم عورتوں كے بالوں كے ساتھ ايسا نہيں كر سكتے .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ و الافتاء ( 5 / 145 )

تاثرات بھیجیں