ہفتہ 20 ربیع الثانی 1442 - 5 دسمبر 2020
اردو

مکان کو منحوس سمجھنا

سوال

ایک شخص نے رہائش کے لئے ایک مکان لیا تو اسے بیماریوں اور دیگر بہت سے پریشانیوں نے آ گھیرا، جس کی وجہ سے وہ اور اس کے اہل خانہ اس گھر سے بد شگونی لینے لگے، تو کیا ان کے لئے اس گھر کو نحوست کی وجہ سے چھوڑنا جائز ہو گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

"بسا اوقات ممکن ہے کہ کچھ مکانات، یا سواریاں یا بیویاں منحوس ہوں، اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے تحت ان کی صحبت میں یا تو نقصان رکھا ہوتا ہے یا فوائد کی کمی رکھی ہوتی ہے، یا اسی طرح کی کوئی منفی بات رکھی ہوتی ہے؛ اس بنا پر ایسے گھر کو فروخت کر کے دوسرے گھر میں منتقل ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ اللہ تعالی سے امید ہے کہ اللہ تعالی اس نئے گھر میں ان کے لئے خیر لکھ دے، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تین چیزوں میں نحوست ہو سکتی ہے: گھر میں، مکان میں اور سواری میں) تو بعض سواریوں میں نحوست ہوتی ہے، بعض بیویوں میں بھی نحوست ہو سکتی ہے، اور اسی طرح بعض گھروں میں بھی نحوست پائی جا سکتی ہے۔ تاہم جب بھی انسان کو ایسی منحوس چیز نظر آئے تو اس کے بارے میں یہ نظریہ رکھے کہ یہ نحوست اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالی نے اپنی خاص حکمت کے تحت اسے منحوس بنایا ہے تا کہ انسان کسی اور جگہ منتقل ہو جائے۔ واللہ اعلم" ختم شد
الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ، "فتاوى العقيدة" (ص303)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب