اتوار 19 ذو القعدہ 1440 - 21 جولائی 2019
اردو

جوتوں سميت نماز ادا كرنے كا جواز

12033

تاریخ اشاعت : 16-05-2006

مشاہدات : 5561

سوال

كيا ضرورت كى بنا پر جوتوں سميت نماز ادا كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جى ہاں ايسا كرنا جائز ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جوتوں سميت نماز ادا كى ہے.

صحيح ميں ہے ابو سعيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں نماز پڑھائى تو آپ نے جوتے پہنے ہوئے تھے، راوى كہتے ہيں:

تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جوتے اتار ديے، تو لوگوں نے بھى اپنے جوتے اتار ديے، پھر جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز سے سلام پھيرا تو لوگ كہنے لگے:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ہم نے آپ كو جوتے اتارتے ہوئے ديكھا تو ہم نے بھى اپنے جوتے اتار ديے.

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميرے پاس جبريل امين تشريف لائے اور مجھے بتايا كہ آپ كے جوتوں ميں گندگى لگى ہوئى ہے، تو ميں نے جوتے اتار ديے، لہذا جب تم ميں سے كوئى ايك مسجد ميں آئے تو وہ اپنے جوتے ديكھے اور اگر وہ اپنے جوتے ميں كوئى گندگى وغيرہ ديكھے تو اسے زمين كے ساتھ رگڑ لے، مٹى ان كے ليے پاكيزگى ہے"

ابو داود حديث نمبر ( 650 )، يا جيسا وارد ہے.

حاصل يہ ہوا كہ جوتوں سميت نماز ادا كرنا جائز ہے، حديث ميں ہے كہ:

" يہوديوں كى مخالفت كرو، تم اپنے موزوں اور جوتوں ميں نماز ادا كرو"

ابو داود حديث نمبر ( 652 ).

ليكن شرط يہ ہے كہ جوتے پاك ہوں، اور اگر جوتوں ميں گندگى وغيرہ لگى ہو انسان كو جوتوں سميت نماز ادا نہيں كرنى چاہيے، اور اسى طرح جب جوتے گندگى اور نجاست سے پاك اور صاف ہوں تو پھر وہ جوتوں سميت مسجد ميں داخل ہو اس كے بغير نہيں.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 93 )

تاثرات بھیجیں