جمعہ 13 جمادی اولی 1440 - 18 جنوری 2019
اردو

جمعہ كے دن خطيب آنے سے پہلے قارى كا تلاوت كرنا

121193

تاریخ اشاعت : 30-09-2009

مشاہدات : 4797

سوال

كيا جمعہ كے دن خطيب كے آنے سے قبل قارى كے ليے مسجد ميں قرآن كى تلاوت كرنا جائز ہے، كيا يہ جمعہ كے آداب اور سنت ميں شامل ہوتا ہے يا كہ بدعات ميں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہمارے علم كے مطابق تو اس كى كوئى دليل نہيں كہ جمعہ كے دن امام كے آنے سے قبل كوئى قارى تلاوت كرے اور لوگ سنيں، اور جب امام صاحب آئيں تو قارى خاموش ہو جائے.

اصل ميں عبادات توقيف پر مبنى ہيں يعنى جس طرح وارد ہيں اسى طرح سرانجام دى جائينگى، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے "

اسے امام مسلم نے صحيح مسلم ميں روايت كيا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور آپ كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے " انتہى

اللجنۃ الدائمۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں