ہفتہ 14 جمادی اولی 1440 - 19 جنوری 2019
اردو

غير شادى شدہ عورت كى نماز جنازہ

12280

تاریخ اشاعت : 11-11-2005

مشاہدات : 2632

سوال

اگر ايك عبادت گزار عورت جس نے پہلے خاوند كى وفات كے بعد دوسرى شادى نہ كى ہو فوت ہو جائے تو كيا مسلمان اس كى نماز جنازہ ادا كريں گے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جى ہاں جب وہ عورت مسلمانوں كے ہاں اسلام كے ساتھ معروف ہو تو فوت ہونے كى صورت ميں مسلمان اس كى نماز جنازہ ادا كريں گے، اور اس كا شادى نہ كرنا نماز جنازہ كى ادائيگى ميں مانع نہيں ہے، ليكن اگر كسى عورت كا خاوند فوت ہو جائے اور شادى كے ليے مناسب رشتہ بھى آئے تو شادى سے ركنا اس عورت كے لائق اور مناسب نہيں، ليكن اگر عبادت كے علاوہ اس كے پاس كوئى ايسا مانع ہو جو شادى نہ كرنے كا باعث ہو تو پھر ہو سكتا ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نكاح كرنے اور تبتل يعنى دنيا سے بے تعلقى اور شادى نہ كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:

" جس نے ميرى سنت سے بے رغبتى كى وہ مجھ ميں سے نہيں"

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء

تاثرات بھیجیں