اتوار 18 رجب 1440 - 24 مارچ 2019
اردو

طلوع اور غروب آفتاب كے وقت نماز ادا كرنے كى ممانعت

12485

تاریخ اشاعت : 08-04-2006

مشاہدات : 4930

سوال

جب مسلمان طلوع يا غروب شمس كے وقت نماز ادا كرے تو يہ شيطان كے سينگوں كے درميان نماز ادا كرنے كے مشابہ ہے، اور ان دونوں وقتوں ميں نماز ادا كرنا جائز نہيں، اور يہ بھى ذكر كيا گيا ہے كہ ان دونوں وقتوں ميں جن شيطان كے ليے نماز ادا كرتے ہيں، تو كيا يہ حديث صحيح ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جى ہاں صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں صبح كى نماز كے بعد طلوع شمس سے ليكر حتى كہ وہ ايك نيزہ اونچا ہو جائے نماز ادا كرنے كى ممانعت وارد ہے، اور دوپہر ميں زوال كے وقت اور نماز عصر كے بعد غروب آفتاب تك نماز ادا كرنے كى ممانعت ہے.

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے كہ سورج شيطان كے سينگوں كے مابين طلوع اور غروب ہوتا ہے، اور اس وقت كفار اسے سجدہ كرتے ہيں.

ديكھيں: صحيح بخارى حديث نمبر ( 581 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 831 ).

الشيخ سعد الحميد

اور حديث ميں يہ وارد نہيں كہ جن شيطان كے ليے نماز ادا كرتے ہيں بلكہ شياطين سركش جن ہيں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں