ہفتہ 20 رمضان 1440 - 25 مئی 2019
اردو

باپ اپنى بيٹى كو شادى كے ليے تيار نہ كرے تو كيا يہ اس كے ماموں پر لازم ہوگا ؟

12506

تاریخ اشاعت : 03-04-2013

مشاہدات : 1567

سوال

جب باپ اپنى بيٹى كى شادى كے اخراجات برداشت نہ كرے تو كيا لڑكى كے ماموں پر شادى كے اخراجات كرنا لازم ہونگے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

سوال نمبر ( 2127 ) كے جواب ميں نكاح كے احكام كى تلخيص بيان ہو چكى ہے، اس ميں ہم نے نكاح ميں ولى كى تحديد كى طرف بھى اشارہ كيا ہے اس كا مطالعہ كريں.

اس سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ ماموں عورت كے اولياء ميں شامل نہيں ہوتا، اس ليے اگر لڑكى كا باپ شادى كے اخراجات نہيں كرتا تو كيا اس حالت ميں اس كے ماموں پر اس كے اخراجات كرنا لازم ہونگے يا نہيں ؟

شيخ ابن جبرين حفظہ اللہ نے ہميں اس كى معلومات فراہم كرتے ہوئے كہا كہ:

" ماموں كے ذمہ اس كے اخراجات اور نفقہ لازم نہيں ہے، بلكہ اس جيسى حالت ميں تو باپ كے بعد نفقہ عورت كے اقرب ترين عصبہ مرد پر واجب ہوتا ہے ( مثلا اس كا بھائى يا اس كے چچا ) يا پھر خاوند پر فرض ہوتا ہے، تو اس طرح يہ اخراجات اس كے من جملہ مہر سے ہونگے "

اللہ ہى توفيق دينے والا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں