ہفتہ 17 ربیع الثانی 1441 - 14 دسمبر 2019
اردو

اجرت لے کر قرآن کریم کی تلاوت کرنا

125103

تاریخ اشاعت : 28-03-2015

مشاہدات : 4556

سوال

سوال: لوگوں سے اجرت لیکر قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

"اگر قرآن کی تلاوت سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن مجید کی تلاوت سکھائی جائی، اور انہیں قرآن مجید یاد کروایا جائے تو علمائے کرام کے دو اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق اس عمل پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس بارے میں صحیح حدیث ہے  جس میں ایک ڈسے ہوئے شخص پر  مقررہ اجرت کے بدلے میں دم کیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں فرمایا کہ: "جس چیز پر اجرت لینے کا سب سے زیادہ تمہارا حق ہے وہ کتاب اللہ ہے" امام بخاری نے اس روایت کو اپنی صحیح بخاری میں نقل کیا ہے۔

البتہ  اگر سوال سے مراد یہ ہے کہ کسی تقریب وغیرہ میں صرف تلاوت کر کے اس پر اجرت لینا کیسا ہے تو  اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس طرح سے اجرت لینا جائز نہیں ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے  ذکر کیا ہے کہ اس بارے میں کسی اہل علم کا اختلاف نہیں ہے کہ  اس طرح اجرت لینا حرام ہے" انتہی.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں