منگل 21 ذو القعدہ 1440 - 23 جولائی 2019
اردو

كافر كى بيمار پرسى اور اس كے جنازہ ميں شركت كرنے كا حكم

12718

تاریخ اشاعت : 03-09-2005

مشاہدات : 3231

سوال

كيا مسلمان شخص كافر كى بيمار پرسى اور اس كے جنازہ ميں شركت كر سكتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

شيخ الاسلام ابن تيميۃ رحمہ اللہ تعالى سے نصارى كے پڑوس ميں رہنے والے مسلمانوں كے متعلق دريافت كيا گيا كہ كيا مسلمان شخص كے ليے كسى نصرانى كى بيمار پرسى كرنا جائز ہے؟

اور كيا اس كے مرنے كى حالت ميں اس كے جنازہ ميں شركت كر سكتا ہے؟

اور كيا مسلمانوں ميں سے ايسا فعل كرنے والے پر كوئى گناہ ہے كہ نہيں ؟

تو شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

الحمد للہ رب العالمين، سب تعريفات اللہ رب العالمين كے ليے ہيں، اس كے جنازہ ميں شركت نہيں كى جائےگى، ليكن اس كى بيمارى پرسى كرنے ميں كوئى حرج نہيں؛ كيونكہ ہو سكتا ہے ايسا كرنے ميں اس كى اسلام پر تاليف قلب ہو.

اور جب كافر مر جائے تو اس كے ليے آگ واجب ہو جاتى ہے، اس ليے اس كى نماز جنازہ ادا نہيں كى جا سكتى.

واللہ اعلم  .

ماخذ: ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 3 / 6 )

تاثرات بھیجیں