جمعہ 20 شعبان 1445 - 1 مارچ 2024
اردو

ایک شخص نے اپنی گھڑی دکاندار کے پاس گروی رکھی لیکن راہن شخص ادائیگی کے وقت نہیں پہنچا

سوال

میری دکان ہے ایک بار میرے پاس گاہک نے مجھ سے کچھ خریدا اور اپنی گھڑی محدود وقت تک کے لیے گروی رکھ کر چلا گیا، پھر ادائیگی کا وقت بھی آ گیا لیکن وہ شخص ادائیگی کے لیے نہ آیا، مجھے گھڑی کی ضرورت پڑی تو میں نے اس کی گھڑی پہن لی، تو کیا مجھ پر گھڑی پہننے کی وجہ سے گناہ ہو گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

"آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ گھڑی کے مالک کے آنے تک انتظار کریں اور وہ آپ کو آپ کا حق دے، لیکن اگر آپ کے لیے صبر کرنا مشکل ہو رہا ہے اور آپ مزید صبر نہیں کرنا چاہتے تو پھر آپ اس گھڑی کی مارکیٹ میں اعلانیہ بولی لگائیں، اور اسے زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کریں، پھر اس میں سے اپنی رقم نکال کر باقی اس کے مالک کے لیے محفوظ کر لیں، پھر اگر یہ شخص آ جائے تو پھر آپ اسے اس کا حق دے دیں، اور اگر عرصہ بعد بھی یہ شخص نہ آئے اور آپ کو اس کے بارے میں علم بھی نہ ہو ، نہ ہی آپ اس تک اس کا حق پہنچا سکتے ہوں تو پھر آپ اس کی طرف سے اس رقم کو فقرا پر صدقہ کر دیں، اس مسئلے میں یہ شرعی طریقہ کار ہے۔" ختم شد

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ

"فتاوى نور على الدرب" (3/1457)

واللہ اعلم

ماخذ: فتاوی سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز – فتاوی نور علی الدرب