جمعرات 6 صفر 1442 - 24 ستمبر 2020
اردو

دعا کے الفاظ کوموبائل کی گھنٹی کے طور پر لگانے کا حکم

128756

تاریخ اشاعت : 09-01-2016

مشاہدات : 2929

سوال

سوال: ریکارڈ شدہ دعا کو موبائل میں بطور گھنٹی استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

دعا کے الفاظ کو موبائل میں بطور گھنٹی استعمال کرنا مناسب نہیں ہے؛ کیونکہ دعا قرب الہی حاصل کرنے کا  ذریعہ اور عبادت ہے، اور عبادت کی تعظیم کرنا ضروری ہے، اس طرح سے اہانت کرنا درست نہیں ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
(وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ)
ترجمہ: جو بھی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں میں تقوی کا باعث ہے۔[الحج :32]

چنانچہ بہتر یہ ہے کہ موبائل میں ایسی گھنٹی استعمال کی جائے جس میں اللہ کا ذکر نہ ہو تا کہ ذکر الہی کی اہانت کا خدشہ باقی نہ رہے اور  نہ ہی موسیقی پر مشتمل کوئی حرام گھنٹی ہو ۔

شیخ صالح فوزان حفظہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"آج کل ہر کسی کے پاس موبائل ہے، تو کیا موبائل میں بطور گھنٹی  تلاوت، اذان، یا  تکبیر  کو استعمال کیا جا سکتا ہے، اس طرح جب بھی موبائل پر کال آتی ہے تو بیت الخلا ، مارکیٹ، اور گھر میں کہیں بھی تلاوت یا اذان وغیرہ کی آواز آنے لگتی ہے، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟"

تو انہوں نے جواب دیا:
"اذکار اور خصوصی طور پر قرآنی تلاوت کو موبائل میں بطور گھنٹی  استعمال کرنے کے لئے نہیں رکھنا چاہیے، اس کیلئے ایسی گھنٹی استعمال کریں جس میں موسیقی بھی نہ ہو، مثال کے طور پر الارم کی گھنٹی استعمال کرے یا ہلکی آواز والی کوئی بھی ٹون استعمال کرے، مگر موبائل میں قرآنی تلاوت یا اذکار کو بطور گھنٹی استعمال کرنا  بالکل بھی درست نہیں ہے، بلکہ یہ قرآن مجید اور اذکار کی توہین شمار ہوگا" انتہی

مزید کیلئے سوال نمبر: (47407) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب