جمعہ 8 جمادی ثانیہ 1442 - 22 جنوری 2021
اردو

لا علمی کی بنا پر مغرب کے وقت میں عشا کی نماز پڑھ لی

سوال

جب مغرب کی اذان ہوئی تو مجھے لگا کہ یہ عشا کی اذان ہے، تو میں نے اسی نیت کی بنا پر چار رکعت نماز پڑھ لی، اور میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ باتیں کرنے لگی اور جب عشا کی اذان ہوئی تو مجھے عجیب سا لگا، تو مجھے گھر والوں نے بتایا کہ عشا کی اذان تو اب ہوئی ہے، تو اس صورت میں میں مغرب کی نماز دوبارہ پڑھوں گی؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

"اگر اس خاتون نے مغرب کی نماز نہیں پڑھی اور مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے عشا کی نماز پڑھ لی اور یہ سمجھتی رہی کہ جو اذان ہوئی ہے یہ عشا کی اذان ہے اور وہ مغرب کی نماز بھول چکی تھی، تو اس صورت میں مغرب کی نماز دہرائے گی؛ کیونکہ اس نے عشا کی نماز وقت سے پہلے پڑھ لی ہے، یعنی عشا کی نماز مغرب کے وقت میں پڑھی ہے، اگر اس نے سورج غروب ہونے کے فوری بعد مغرب پڑھی ہوتی تو اس کی مغرب کی نماز ہو جاتی؛ لیکن عشا کی نماز اس نے وقت پہلے ادا کی ہے اس لیے عشا کی نماز دوبارہ پڑھے گی۔

کیونکہ وقت سے پہلے نماز صحیح نہیں ہوتی، تو اب چونکہ اس نے مغرب کی نماز بھی نہیں پڑھی اس لیے پہلے مغرب کی نماز پڑھے اور پھر عشا کی نماز پڑھے۔" ختم شد

الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ

واللہ اعلم

ماخذ: "فتاوى نور على الدرب" (2/728) از الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ