نکاح کے بعد اور ہم بستری سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرنا سنت ہے؟

892

سوال 132234

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نکاح کی بھی نماز ہوتی ہے، جسے نکاح کے نوافل کہتے ہیں، یہ نفل ہم بستری سے پہلے پڑھے جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے آپ دو رکعت نماز پڑھیں اور اس کے بعد ہم بستری کریں۔ اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں، آپ کا بہت شکریہ۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

"اس حوالے سے بعض صحابہ کرام کے بارے میں کچھ آثار ملتے ہیں کہ انہوں نے ہم بستری سے پہلے دو رکعت نماز ادا کی ہے، تاہم اس کے بارے میں کوئی مرفوع صحیح روایت نہیں ہے ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص دو رکعت پڑھ لیتا ہے جیسے کہ بعض سلف صالحین سے منقول ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر کوئی نہیں پڑھتا تو پھر بھی کوئی حرج نہیں ہے، دونوں عمل ہی جائز ہیں۔ مجھے اس بارے میں کسی مرفوع صحیح حدیث کا علم نہیں ہے۔" ختم شد

سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ

فتاوی نور علی الدرب: (3/1601)

واللہ اعلم

حوالہ جات

نکاح کے آداب

ماخذ

فتاوی سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز – فتاوی نور علی الدرب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android