جمعرات 15 رجب 1440 - 21 مارچ 2019
اردو

کیتھولیک یونیورسٹی میں پڑھنا

13302

تاریخ اشاعت : 18-05-2004

مشاہدات : 7761

سوال

میں کیتھولیک سکولوں میں داخلےکےمتعلق ایک سوال کرناچاہتاہوں ، میں کیتھولیک یونیورسٹی میں پڑہتاہوں میرے بہت سےمسلمان دوستوں نےمجھےیہ بتایاہےکہ اس یونیورسٹی میں میراپڑہناصحیح نہیں آپ کےعلم میں ہوناچاہئےکہ مجھےاس پرمجبورنہیں کیاجاتاکہ میں کیتھوں لیک کےمتعلق کوئی بھی مضمون لوں اورپھرمیں یونیورسٹی میں نمازبھی پڑہتاہوں توکیامیراوہاں نمازپڑھنےپرکوئي اعتراض ہوشکتاہے ؟

جواب کا متن

الحمدللہ

بلاشک ایسےسکولوں اورمدارس میں پڑہنااس مسلمان کےلئےبہت ہی خطرناک ہے جوکہ اسلام تعلیمات سےجاہل ہووہ اس لئےکہ وہ ایسےاسباق اوردروس سنےاورپڑھےگا اورایسی معلومات حاصل کرےگاجومبالغہ پرمبنی ہوں گی اورجس میں کفاراوران کےادیان اورعقائدکی مدح وتعریف ہوگی ۔

اوران میں غالب طورپراسلام کےخلاف اورمسلمانوں کی جرح وقدح ہوتی ہےلیکن اگرطالب علم مسلمانوں کےعقیدہ میں پختہ اورمتمکن ہواورارکان اسلام اوردین اسلام میں حلال وحرام کواچھی طرح جانتااورسمجھتاہواوران مدارس اورسکولوں میں پڑھنےکی ضرورت پیش آئےتاکہ وہ صنعت وحرفت اورکچھ اورخاص قسم کی معلومات حاصل کرنا چاہتاہواوراسےاپنےمتعلق اتناوثوق ہوکہ وہ ان کےدروس اوراسباق سےمتاثرنہیں ہوگااورنہ ہی پڑھانےوالوں سےہی متاثرہونےکاخدشہ ہواوریہ بھی معلوم ہوکہ اسےکسی ایسےمضمون یاسبق پڑھنےپرمجبورنہیں کیاجائےگاجوکیتھولیک کےمتلقہ ہوتواس حالت میں ہمارے خیال کےمطابق اسےان مدارس اورسکول میں پڑھنےمیں کوئی حرج نہیں ۔

بلکہ خطرہ اورڈراس کےبارہ میں ہےجوکہ جاہل ہواورکفارکےحیلوں اورمکروفریب اوردھوکےوفراڈ سےواقف نہ ہوتوجوشخص اپنےآپ پروثوق رکھتاہواوراسلامی تعلیمات سے مکمل طورپرواقف ہواوران پرعمل بھی کرتاہوتوغالب طورپروہ ان کےاعمال اورمعلومات سےمتاثرنہیں ہوتا ۔ .

ماخذ: الشیخ عبداللہ بن جبرین ۔

تاثرات بھیجیں