جمعرات 15 رجب 1440 - 21 مارچ 2019
اردو

مچھلى اور دودھ اكٹھا كرنا

13359

تاریخ اشاعت : 14-07-2008

مشاہدات : 3327

سوال

كيا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كى تعليم دى ہے كہ مچھلى اور دودھ اكٹھے مت كھائيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے وارد نہيں كہ آپ نے مچھلى كھا كر دودھ پينے سے منع كيا ہو، اور جب يہ ثابت نہيں تو پھر اس مسئلہ ميں مرجع اہل طب ہونگے، اگر طبيب اور ڈاكٹر كہے كہ ان كو جمع كرنے ميں نقصان اور ضرر لاحق ہوتا ہے تو ان كو اكٹھا تناول نہ كيا جائے، بلكہ ہر ايك كو عليحدہ كھايا اور پيا جائے.

ليكن اگر ان كو جمع كرنے كوئى نقصان اور ضرر نہيں تو پھر اگر آپ چاہيں تو ان كو اكٹھا تناول كر ليں، اور اگر چاہيں تو عليحدہ عليحدہ استعمال كريں، ليكن يہ ہو سكتا ہے اكٹھا استعمال كرنا بعض لوگوں كو كسى معين حساسيت اور الرجى، اور ان كے جسم كى طبيعت كى بناپر ضرر اور نقصان دے، اور دوسروں كے ليے ضرر اور نقصان كا باعث نہ ہو.

خلاصہ يہ ہوا كہ: اس سلسلہ ميں تجربہ كار لوگ مرجع ہيں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں