اتوار 11 صفر 1440 - 21 اکتوبر 2018
اردو

مرض موت میں مریض کوکیا کرنا مستحب ہے ؟

سوال

ایک مریض کوسرطان کا مرض ہے اورڈاکٹر اس کا علاج نہيں کرسکے ، وہ ہاسپٹل سے خارج کردیا گيا ہے تا کہ اپنی باقی عمر گھروالوں کے پاس گزارسکے اوردن بدن اس کی حالت بگڑ رہی ہے تواسے کیا کرنے کی نصیحت کی جاۓ ؟

جواب کا متن

الحمد للہ
امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اخلاق کواچھا بناۓ اوردنیاوی امورمیں جھگڑا اورتنازع کرنے سے بچے ، اوراپنے ذھن میں ہر وقت یہ رکھے کہ اس داراعمال میں اس کا یہ آخری وقت ہے لھذا اسے اس کا خاتمہ اچھے طریقے سے کرنا چاہيۓ ۔

اوراس کی بیوی ، اولاد ، اورسب گھروالوں اورپڑوسیوں ، دوست واحباب ، اورجس جس کے اورمریض کے آپس میں کوئ معاملات یا دوستی یا تعلق ہویا وہ جنہیں پسند کرتا ہے ان سب کے لیے حلال ہے کہ وہ اس اس کے پاس آکر اسے قرآن کی تلاوت کریں اوراللہ تعالی کا ذکر کریں یا پھر نیک اورصالح لوگوں کے واقعات وقصے سنائيں اوران کی موت کے وقت ان کے حالات بیان کریں ۔

اورمریض کوچاہیے کہ وہ نمازی کی پابندی کرے اورنجاست وغیرہ سے بچ کررہے اوردینی احکامات پر عمل کرتا رہے ، اوراس شخص کی بات تسلیم نہ کرے جواسے چھوڑنا چاہے اس لیے کہ یہ آزمائش ہے ، اوریہ جواسے چھڑانا چاہتا ہے ایک جاہل دوست اورپوشیدہ دشمن ہے ۔

اس مریض کے گھروالوں کوصبرکرنے کی تلقین کرنی چاہیے اوراس پر رونے دھونے اورنوحہ کرنے سےپرہيز کرنی چاہیے ، انہیں یہ بھی نصیحت کی جاۓ کہ جنازہ میں آج کل جوبدعات کا رواج چل نکلا ہے اس سے بھی بچیں ، اورہر وقت اس کے لیے دعا کرتے رہيں ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔

واللہ اعلم  .

ماخذ: دیکھیں المجموع للنووی ( 5 / 109 ) ۔

تاثرات بھیجیں