ہفتہ 15 شعبان 1440 - 20 اپریل 2019
اردو

قرض كى ادائيگى ميں تاخير ہونے پر جرمانہ عائد كرنا جائز نہيں

13709

تاریخ اشاعت : 03-07-2005

مشاہدات : 3437

سوال

اگر گاہك پر جرمانہ عائد كر ديا جائے تو كيا يہ سود شمار ہو گا؟ اس ليے كہ بنك نے چيك كيش كرنے سے انكار كرديا ، مثلا اگر كوئى گاہك كسى معين ادارے كے ليے معين رقم كا چيك كاٹے، اور جب صاحب عمل چيك كيش كروانے جائے تو وہاں اس كے كھاتے ميں بيلنس ہى نہ ہو، اور اس كے بعد وہ گاہك سے جرمانہ وصول كرے كيونكہ اس كا چيك كيش نہيں ہوا تھا، تو كيا يہ اضافى رقم سود شمار ہو گى ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

جى ہاں آپ كے ليے صرف اتنا مال لينا ہى حلال ہے جو گاہك كے ذمہ تھا، اور تاخير كے سبب يا اس وجہ سے كہ رقم كى وصولى ميں آپ كو مشقت اٹھانا پڑى ہے اس پر اضافى رقم ڈالنا جائز نہيں، بلكہ آپ صرف اتنى رقم ہى وصول كريں جو اس نے چيك ميں لكھى تھى، ليكن اگر وہ آپ كو بنك جانے كے بدلے ميں بطور اجرت كچھ رقم دے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن تاخير كى حالت ميں زائد رقم كى شرط عائد كرنى جائز نہيں ہے .

ماخذ: الشیخ عبداللہ بن جبرین

تاثرات بھیجیں